ویب ڈیسک: (علی زیدی) روسی بحریہ کے ریٹائرڈ کیپٹن نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن یورپ پر روس کا جوہری صلاحیت رکھنے والا ہائپر سونک میزائل استعمال کریں۔ تاہم یہ حملہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو یوکرین پر حملے بند کرنے کے لیے 50 دن کی مہلت دی ہے، بصورتِ دیگر سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر جنگ نہ رکی تو روس پر 100 فیصد ٹیرف اور ان ممالک پر بھی ثانوی پابندیاں لگیں گی جو روس سے تجارت جاری رکھیں گے۔
روسی نیول ماہر کیپٹن (ریٹائرڈ) واسلی ڈنڈیکن نے ماسکو کے ایک اخبار کو بتایا کہ "اوری شینک" نامی ہائپر سونک میزائل کو دوبارہ منظرِ عام پر لایا جانا چاہیے۔ یہ میزائل 7,610 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جوہری وارہیڈ لے جانے کا اہل ہے۔
یہ میزائل پہلی مرتبہ نومبر 2024 میں یوکرین کے شہر ڈنیپرو میں ایک دفاعی فیکٹری پر حملے میں استعمال ہوا تھا۔ ڈنڈیکن کا کہنا تھا کہ "ہماری دفاعی صنعت سوتی نہیں، میرے خیال میں اب تک کافی تعداد میں میزائل تیار ہو چکے ہوں گے۔"
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ پیوٹن کے ساتھ ان کی گفتگو ہمیشہ "خوشگوار" ہوتی ہے، مگر راتوں کو "میزائل فائر ہوتے ہیں"۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا جدید ہتھیار بنائے گا اور وہ نیٹو کو فراہم کیے جائیں گے۔
دوسری طرف روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو " ڈرامہ بازی" قرار دیا اور کہا کہ "روس کو کوئی پرواہ نہیں"۔
جون 2025 یوکرینی شہریوں کے لیے اب تک کا سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا، جہاں 232 شہری مارے گئے اور 1,300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی مہینے پیوٹن نے "اوری شینک" میزائل کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے کی تصدیق کی، جس کی رینج یورپ سے لے کر مغربی امریکا تک 3,400 میل بتائی جاتی ہے۔ پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل روکے نہیں جاسکتے، تاہم مغربی انٹیلیجنس ادارے اس دعوے کو مشکوک قرار دے چکے ہیں۔
نیٹ ورک این بی سی کے مطابق، 2025 کے آغاز سے روس کے میزائل اور ڈرون حملوں میں 605 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ ایران سے ڈرون درآمدات میں کمی کے بعد روس نے اپنی پیداوار تیز کر دی ہے۔
ادھر ایک حالیہ لیک میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹرمپ نے ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں کہا کہ انہوں نے پیوٹن کو خبردار کیا تھا کہ اگر روس نے حدود پار کیں تو وہ "ماسکو پر بمباری کر دیں گے"۔