ویب ڈیسک: قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک غیر معمولی اور خوش آئند سیاسی منظر دیکھنے میں آیا جب وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں دو مرتبہ اپوزیشن بینچز پر گئے اور اپوزیشن قیادت سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے تحفظات اور مطالبات سنے۔
پارلیمانی روایات اور جمہوری اقدار کے اظہار کے طور پر وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر علی خان اور سابق اسپیکر اسد قیصر سے ان کی نشستوں پر جا کر ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپوزیشن رہنماؤں کی گفتگو توجہ سے سنی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے تحفظات، مطالبات اور پارلیمانی امور سے متعلق شکایات براہِ راست وزیراعظم کے سامنے رکھیں، جنہیں وزیراعظم نے غور سے سنا۔
بعد ازاں وزیرِ دفاع خواجہ آصف بھی متحرک نظر آئے اور وزیراعظم کی اپوزیشن قیادت سے ملاقات کے بعد خود بھی اپوزیشن بینچز پر جا پہنچے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کی اور قومی و پارلیمانی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
اس سے قبل ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کی فوج اور پارلیمان دونوں قومی ادارے ہیں اور ان کی مضبوطی دراصل ملک اور عوام کی مضبوطی ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں بھی اپوزیشن انہیں قائدِ ایوان تسلیم کرتی ہے، لہٰذا وہ اپنی آئینی حیثیت اور اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے پارلیمان کو اس کے مکمل اختیارات واپس دلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمانی بالادستی کے لیے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اپوزیشن اس کی بھرپور حمایت کرے گی۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت کے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کے دعووں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عملی طور پر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایوان میں اراکین کے پارلیمانی حقوق کا معاملہ بھی اٹھایا اور رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی پر عائد پابندی کو غیر منصفانہ قرار دیا۔
اپوزیشن لیڈر نے سپیکر قومی اسمبلی اور قائدِ ایوان سے مطالبہ کیا کہ اقبال آفریدی پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن قیادت کے درمیان ہونے والی یہ ملاقاتیں سیاسی کشیدگی میں کمی اور پارلیمانی مکالمے کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔