ویب ڈیسک: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی ہم منصب کے ساتھ فون پر بات چیت میں یوکرین میں فوری طورپر جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے تاہم وہاں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
روسی سربراہ نے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کے اس جامع معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس پر صدر ٹرمپ کی ٹیم یوکرین کے ساتھ سعودی عرب میں کام کرتی رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع معاہدہ اسی صورت میں کارآمد ہو سکتا ہے اگر یوکرین کو ملنے والی غیر ملکی فوجی امداد اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو ختم کر دیا جائے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے اس قسم کی شرائط ماننے سے انکار کیا تھا۔
خیال رہے کہ تین سال سے جاری جنگ میں روس نے حال ہی میں کرسک نامی علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کیا ہے جسے چھ ماہ قبل یوکرین نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
حالانکہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر مزید امن مذاکرات ہوں گے تاہم منگل کو ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان ہونے والی بات چیت کا نتیجہ امریکا کا اپنی اس پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کے مترادف لگتا ہے جہاں وہ ایک ہفتہ پہلے کھڑا تھا۔
جب یوکرین سے امریکی وفد جدہ میں گزشتہ منگل کو ملا تھا تو انھوں نے اسے 30 روز کے لیے فضائی، بحری اور بری سطح پر ہونے والی لڑائی بند کرنے کی تجویز پر آمادہ کر لیا تھا۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی جو کہ اس وقت فن لینڈ کے سرکاری دورے پر ہیں نے صدر ٹرمپ کی روسی ہم منصب سے ہونے والی بات چیت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ یوکرین انرجی انفسراسٹرکچر پر حملے نہ کرنے کے معاہدے کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں پہلے اس حوالے سے مزید تفصیلات دی جائیں۔
روس کی جانب سے کیے جانے والے تازہ ڈرون حملوں کے بعد زیلنسکی نے پوٹن پر الزام لگایا کہ انھوں نے سیز فائر کو مسترد کر دیا ہے۔
یوکرین کے رہنما نے کہا کہ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں سومی میں ایک ہسپتال اور سلویانسک میں بجلی کی فراہمی شامل ہے۔
زیلنسکی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ’بدقسمتی سے، خاص طور پر سویلین انفراسٹرکچر پر حملے ہوئے ہیں، آج پوٹن نے مکمل جنگ بندی کی تجویز کو مؤثر طریقے سے مسترد کر دیا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ روسی رہنما کے ساتھ ان کی بات چیت ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘ تھی اور ’امن کے معاہدے کے بہت سے عناصر پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ہم نے توانائی اور انفراسٹرکچر پر فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ہم مکمل جنگ بندی کے لیے تیزی سے کام کریں گے اور بالآخر روس اور یوکرین کے درمیان اس خوفناک جنگ کا خاتمہ کریں گے۔‘
زیلنسکی نے گزشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ یوکرین کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 80 فیصد روسی بموں سے تباہ ہو چکا ہے۔
جواب میں یوکرین نے روسی علاقے میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
گزشتہ ہفتے جدہ میں ہونے والی بات چیت میں جب یوکرین نے جنگ بندی کے لیے واشنگٹن کی تجویز قبول کی تھی تو اس کے بعد وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ بال اب روس کی کورٹ میں ہے۔
لیکن منگل کو ٹرمپ اور پوٹن کی بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس کے بیان میں یوکرین کے ساتھ اس معاہدے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ اس کے بجائے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’امن کی تحریک توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی جنگ بندی سے شروع ہوگی۔‘
مزید کہا گیا کہ اس کے بعد ’بحیرہ اسود میں سمندری جنگ بندی، مکمل جنگ بندی اور مستقل امن‘ پر بات چیت ہوگی۔
لیکن کریملن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیئف کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو نافذ کرنے کے بارے میں ’اہم معاملات کا ایک سلسلہ‘ تھا۔
یہ بھی کہا گیا کہ یوکرین کے لیے غیر ملکی حمایت اور انٹیلیجنس کا خاتمہ روس کے لیے 'اہم شرط' ہے۔
صدر ٹرمپ اور پوٹن نے طویل مدتی تصفیے کے لیے فوری طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات پر اتفاق کیا، جس کے بارے میں کریملن کا کہنا ہے کہ یہ 'پیچیدہ، مستحکم اور طویل مدتی نوعیت کا ہونا چاہیے۔‘
کریملن کے مطابق 19 مارچ کو روس اور یوکرین 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے جبکہ روس میں زیرِ علاج 23 یوکرینی فوجی، جو شدید زخمی ہیں، کو بھی یوکرین منتقل کیا جائے گا۔
کریملن نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ 30 روزہ جنگ بندی کے دوران یوکرینی افواج کی طرف سے کوئی صف بندی نہ کی جائے۔
کریملن نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے امریکی اور روسی کھلاڑیوں کے درمیان آئس ہاکی میچوں کے انعقاد کے لیے پوٹن کے خیال کی حمایت کی۔
خیال رہے کہ روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد بیرون ملک آئس ہاکی مقابلوں سے روک دیا گیا تھا۔
صدر پوٹن اس سے قبل اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ روس کو یوکرین کے زیر قبضہ علاقے کا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے اور کسی بھی ممکنہ امن معاہدے کے حصے کے طور پر مغربی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر جرمن چانسلر اولاف شولز نے برلن میں فرانسیسی صدر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدود جنگ بندی کا منصوبہ ایک اہم پہلا قدم ہے تاہم انھوں نے ایک بار پھر مکمل جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔
برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے ٹرمپ اور پوٹن کی بات چیت کے بعد صدر زیلنسکی سے بات کی اور برطانیہ کی مکمل متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
روس یوکرین جنگ بندی مذاکرات سعودی عرب میں ہوں گے:سٹیووٹکوف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی مذاکرات اتوار کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوں گے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو کہ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان طویل فون کال کے چند گھنٹوں بعد ہوا، وٹکوف نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ’اتوار کو جدہ میں شروع ہوگی۔‘
وٹکوف نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں امریکی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کریں گے، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ بات چیت کن کے ساتھ کریں گے۔
بحیرہ اسود اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے متعلق جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے، وٹکوف نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے روسیوں نے ان دونوں معاملات پر اتفاق کر لیا ہے۔ میں یقیناً امید کرتا ہوں کہ یوکرینی بھی اس پر متفق ہوں گے۔‘
تاہم، وٹکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مجوزہ جنگ بندی ’توانائی اور عمومی انفراسٹرکچر‘ تک لاگو ہے۔
وٹکوف نے مزید کہا کہ چونکہ توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے اہداف اور بحیرہ اسود کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جا چکا ہے، انہیں یقین ہے کہ ’یہاں سے مکمل جنگ بندی کا راستہ زیادہ دور نہیں۔‘