شطرنج اور تاش کھیلناجائز ہے،جامعہ الازہر

شطرنج اور تاش کھیلناجائز ہے،جامعہ الازہر
کیپشن: شطرنج اور تاش کھیلناجائز ہے, جامعہ الازہر

ویب ڈیسک: مصر کی دینی درس گاہ جامعہ الازہر میں سینئر علما کونسل کے رکن ڈاکٹر علی جمعہ نے کہا ہے کہ ڈومینوز، شطرنج اور تاش کھیلنا تب تک جائز ہے جب تک وہ بغیر پیسے کے کھیلے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے اپنے روزمرہ کے پروگرام میں جو کہ کئی مقامی چینلز پر نشر ہوتا ہے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ انٹرنیٹ پر پھیلی ہوئی الیکٹرانک بیٹنگ جوئے کی ایک شکل ہے جو کہ اسلامی قانون کے مطابق حرام ہے۔ یہ گیمز کھلاڑیوں کو عادی بننے پر آمادہ کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ کھیلوں کے میچوں یا الیکٹرانک گیمز کے نتائج مہارت کے بجائے قسمت پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کو اسلام نے جوئے کی ایک شکل کا درجہ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک نے نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات کی وجہ سے اس قسم کی سٹے بازی پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، کیونکہ یہ دیوالیہ پن اور قرضوں کا باعث بن سکتے ہیں۔بعض شکلوں میں یہ چوری یا دھوکہ دہی کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر علی جمعہ نے مزید کہاکہ "بیٹنگ میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے بقایا سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بیٹنگ نہیں ہوتی"۔

Watch Live Public News