ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور شروع کردیا

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور شروع کردیا

(ویب ڈیسک) ایران  کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق   ایران کا یہ اقدام اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز میں ان جہازوں کی نقل و حرکت متاثر کی ہے جنہیں وہ امریکا اور اسرائیل یا ان کے اتحادیوں سے منسلک قرار دیتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق   ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ  کا کہنا ہے کہ ایک بل زیر غور ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ممالک کو، چاہے وہ تجارتی سامان، توانائی یا خوراک کی ترسیل کر رہے ہوں، ایران کو ٹول اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا جائے گا ، اس نظام کے تحت ایران ان ممالک پر سمندری پابندیاں عائد کر سکے گا جنہوں نے اس پر پابندیاں لگا رکھی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور ان کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے سے روک سکتا ہے۔

Watch Live Public News