ویب ڈیسک: (علی زیدی) اسپین کی ایوی ایشن سیفٹی اتھارٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق لُفتھانزا کی ایک پرواز گزشتہ سال اس وقت تقریباً 10 منٹ تک بغیر پائلٹ کے فضا میں پرواز کرتی رہی جب معاون پائلٹ اچانک کاک پٹ میں بے ہوش ہوگیا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق 17 فروری 2024 کو فرینکفرٹ سے سیویل (اسپین) جانے والی پرواز میں 199 مسافر اور 6 عملے کے افراد سوار تھے۔ واقعے کے وقت جہاز کا کپتان واش روم گیا ہوا تھا، اور معاون پائلٹ اکیلا کاک پٹ میں موجود تھا۔
سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ آٹو پائلٹ سسٹم فعال تھا، معاون پائلٹ نے بے ہوشی سے پہلے غیر ارادی طور پر کچھ کنٹرولز کو چھیڑا۔ کاک پٹ وائس ریکارڈر میں "شدید اور اچانک بے ہوشی" کی آوازیں بھی ریکارڈ ہوئیں۔
ائیر ٹریفک کنٹرولر نے کاک پٹ سے تین بار رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ کپتان نے واپسی پر معمول کے طریقے سے دروازہ کھولنے کی کئی کوششیں کیں لیکن ناکامی پر ہنگامی کوڈ استعمال کر کے کاک پٹ میں داخل ہوا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالا۔
رپورٹ کے مطابق معاون پائلٹ کو جہاز کے عملے اور ایک مسافر ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد دی، جس کے بعد وہ ہوش میں آ گیا۔ کپتان نے فوری طور پر پرواز کو میڈرڈ ایئرپورٹ کی جانب موڑا اور وہاں بحفاظت لینڈنگ کی۔ معاون پائلٹ کو چند گھنٹوں کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ معاون پائلٹ کو ایک نیورولوجیکل بیماری لاحق تھی جس کا اسے خود علم نہیں تھا اور جو اس کی طبی جانچ میں بھی سامنے نہیں آئی تھی۔ بعد ازاں اس کا میڈیکل سرٹیفکیٹ معطل کر دیا گیا۔
اسپین کی ایوی ایشن اتھارٹی نے اس واقعے کو "غیر معمولی" قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پائلٹس کی خصوصی تربیت کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ اس نوعیت کے واقعات نایاب ہوتے ہیں، لیکن عالمی ڈیٹا بیس میں 2019 سے 2024 کے دوران پائلٹ کی پرواز کے دوران طبی طور پر ناکارہ ہونے کے 287 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔