واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا کیس، صیہونی کمپنی پر بڑا جرمانہ عائد

واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا کیس، صیہونی کمپنی پر بڑا جرمانہ عائد
کیپشن: واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کا کیس، صہیونی کمپنی پر بڑا جرمانہ عائد

ویب ڈیسک: امریکی عدالت نے اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے واٹس ایپ صارفین کی جاسوسی کرنے پر 4 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔

ایک امریکی عدالت نے اسرائیلی اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس گروپ کو واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنانے سے روک دیا ہے، لیکن اس معاملے میں دیے گئے 68 ملین ہرجانے کو کم کر کے صرف 4 ملین ڈالر کر دیا ہے۔

ڈسٹرکٹ جج فلس ہیملٹن نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ کا طرز عمل اتنا سنجیدہ نہیں تھا کہ جیوری کی طرف سے مقرر کیے گئے بھاری مالی جرمانے کو برقرار رکھ سکے۔

تاہم جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم کے طرز عمل سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اور چونکہ یہ عمل ابھی جاری ہے، عدالت نے واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی میٹا کو این ایس او گروپ کی جاسوسی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کا عدالتی حکم جاری کیا۔

"واٹس ایپ کے سربراہ نے کہا کہ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، جو چھ سال کی طویل قانونی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاکہ سول سوسائٹی کے ارکان کو نشانہ بنانے پر این ایس او کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق شواہد سے ثابت ہوا کہ این ایس او گروپ نے خفیہ طور پر واٹس ایپ کے کوڈ کو ریورس انجینئرنگ کے ذریعے صارفین کو نشانہ بنانے والے اسپائی ویئر کو انسٹال کیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ کمپنی کے جاسوسی سافٹ ویئر کو بار بار اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ واٹس ایپ کے سیکیورٹی اپ ڈیٹس اور پتہ لگانے کے نظام سے بچ سکے۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ 2019 کے آخر میں دائر کیا گیا تھا، جس میں این ایس او گروپ پر صحافیوں، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر افراد پر سائبر جاسوسی کا الزام لگایا گیا تھا جو واٹس ایپ کی خفیہ میسجنگ سروس استعمال کر رہے تھے۔

Watch Live Public News