ویب ڈیسک: سابق وزیراعظم عمران خان کی 8 ضمانتوں کی درخواست کی سماعت کے حوالے سے سپریم کورٹ سے بڑی خبر آگئی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے عمران خان کی 8 ضمانتوں کی درخواست پر سماعت کی، بنچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس شفیع صدیقی بھی شامل تھے۔
پراسیکیوٹرذوالفقار نقوی کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ جس کی وجہ سے کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
معاون وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پراسیکیوٹرفوڈ پوائزننگ کی وجہ سے عدالت پیش ہونے سے قاصر ہیں، کیس کی سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کردی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سماعت کل دوبارہ ہوگی اور صورتحال دیکھ کر آگے فیصلہ کیا جائے گا۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ان کے موکل کی ضمانت گزشتہ سال نومبر میں خارج کی تھی، یہ مقدمہ 6 ماہ تک ہائی کورٹ میں زیر سماعت رہا جہاں 16 سماعتیں ہوئیں اور اس دوران 8 مختلف پراسیکیوٹرز تبدیل کئے گئے، استغاثہ نے بار بار التوا کی درخواستیں دے کر کارروائی کو طول دیا جس سے وہ اب مایوس ہو چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت طویل التوا نہیں دے گی، تاہم سب سے پہلے استغاثہ کے دلائل سنے جائیں گے، استغاثہ کو یہ وضاحت دینا ہوگی کہ لاہور ہائی کورٹ کا ضمانت خارج کرنے کا فیصلہ کیسے برقرار رہ سکتا ہے، انہیں اس تھریش ہولڈ سے گزرنا پڑے گا۔
سلمان صفدر نے عدالت سے گزارش کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اہلخانہ کو بھی بات کرنے کی اجازت دی جائے، وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں، تاہم چیف جسٹس نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت صرف وکیل کو ہی سنے گی، فیملی ممبران کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دی۔