جامعات میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار طلبا کی ہوشربا تفصیلات

جامعات میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار طلبا کی ہوشربا تفصیلات
کیپشن: جامعات میں منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار طلبا کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد: پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور فروخت کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ سینیٹ میں پیش کی گئی انسداد منشیات کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسلام آباد کی کئی بڑی یونیورسٹیوں کے طلبا منشیات فروخت کرتے ہوئے گرفتار ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران قائداعظم یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نیسٹ)، اقرا یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے طلبا کے قبضے سے مجموعی طور پر 27 کلوگرام سے زائد چرس برآمد ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق 27 جولائی 2023 کو پرائم انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے طالب علم عمران خان کو پمز ہسپتال پارکنگ ایریا سے 1.8 کلوگرام چرس سمیت گرفتار کیا گیا۔ 8 جنوری 2024 کو نیسٹ کے عبداللہ رضوان اور قائداعظم یونیورسٹی کے شاہزیب شکیل کو ڈی-12 اسلام آباد سے 315 گرام چرس کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔

11 مارچ 2024 کو ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے طالب علم حمزہ سجاد کو مری روڈ راولپنڈی سے 2.4 کلوگرام چرس کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ 28 مارچ 2024 کو اقرا یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک طالب علم کو ائیرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی سے 2.4 کلوگرام چرس سمیت پکڑا گیا۔

اسی طرح 24 اکتوبر 2024 کو بحریہ یونیورسٹی کے طالب علم فرخ مصطفی کو بہارہ کہو اسلام آباد سے 600 گرام چرس کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ 20 دسمبر 2024 کو عبادت انٹرنیشنل یونیورسٹی کے دو طلبا حسن سردار اور عبدالمؤمن کو جدید ٹاؤن اسلام آباد سے 200 گرام چرس کے ساتھ پکڑا گیا۔

سات اگست 2025 کو قائداعظم یونیورسٹی کے طالب علم محمد جمال کو سرینگر ہائی وے سے ایک کلوگرام چرس برآمد ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدہ تمام طلبا کو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق منشیات فروشی کے بڑھتے واقعات طلبا کی تربیت اور معاشرتی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

Watch Live Public News