ٹرمپ انتظامیہ نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز کا کچھ حصہ جاری کر دیا

ٹرمپ انتظامیہ نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز کا کچھ حصہ جاری کر دیا
کیپشن: ٹرمپ انتظامیہ نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز کا کچھ حصہ جاری کر دیا

ویب ڈیسک: امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز کا کچھ حصہ جاری کر دیا ہے، جس میں مائیکل جیکسن کی تصویر بھی سامنے آئی ہے۔

امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹس نے ایپسٹین کے اثاثوں سے متعلق 68 نئی تصاویر جاری کی ہیں، اور محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں مزید لاکھوں دستاویزات جاری کی جائیں گی۔ ان فائلز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بل کلنٹن، اور دیگر اعلیٰ کاروباری شخصیات و سیاستدانوں کے نام سامنے آئیں گے۔ نئی تصاویر میں ایک کتاب "لولیتا" کے اقتباسات ایک خاتون کے جسم پر سیاہ روشنائی سے لکھے دکھائے گئے ہیں۔

دستاویزات میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، اینڈریو ماؤنٹ بیٹن-ونڈسر، موسیقار مک جیگر، اور مائیکل جیکسن کی تصاویر شامل ہیں۔ کچھ تصاویر میں بل کلنٹن کو ایپسٹین کی ساتھی کے ساتھ تالاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

نئی فائلز میں 1200 سے زائد افراد کے نام حذف کر دیے گئے ہیں، اور ڈیموکریٹس نے ان دستاویزات کو ٹرمپ انتظامیہ کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ سینیٹر چک شومر نے کہا کہ محکمہ انصاف نے ان دستاویزات کو چھپایا، جو قانونی حکم کی توہین ہے۔ سابق صدر کلنٹن کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایپسٹین کی گرفتاری کے بعد سابق صدر کا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔

اس کے علاوہ، مراکش، اٹلی، چیک ریپبلک، جنوبی افریقہ، یوکرین اور لتھوانیا کی خواتین کے شناختی کارڈز بھی شیئر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کئی ماہ تک اس کیس کے ریکارڈ کو پبلک نہ کرنے کے لیے لڑائی جاری رکھی تھی۔

بی بی سی کے مطابق، ان فائلز میں کسی کا نام آنا یا تصویر کا ہونا کسی جرم کا ثبوت نہیں ہے، اور اس سے قبل جاری کی گئی دیگر دستاویزات میں جن افراد کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے بہتوں نے ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین، جو جنسی جرائم میں سزا یافتہ تھا، 2019 میں جیل میں خودکشی کر کے چل بسا۔

Watch Live Public News