تارکین وطن کی اجتماعی ملک بدری، ٹرمپ 200 ایگزیکٹو آرڈرز دستخط کریں گے

trump signed 200 executive orders
کیپشن: trump signed 200 executive orders
سورس: google

  ویب ڈیسک : حلف اٹھاتے ہی  نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تارکین وطن پر ’’   اجتماعی ملک بدری ’’ کا  بم گرانے سمیت 200 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کریں گے ۔

 رپورٹ کے مطابق نو منتخب صدر  ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری کے ساتھ ہی آج امریکا کے 47ویں صدر کے طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیں گے۔ وہائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے فوراً بعد وہ تقریباً 200 ایگزیکٹیو آرڈرز پر دستخط کریں گے۔

5 اہم نکات پر ایگزیکٹو آرڈرز جاری ہوں گے

 ایگزیکٹیو احکام کا اہم مقصد انتخابی وعدوں کو پورا کرنا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی معاونین میں سے ایک اسٹیفن ملر نے بتایا کہ اس میں خاص طور سے 5 موضوع شامل ہوں گے۔ جنوبی سرحد کو سیل کرنا، اجتماعی ملک بدری، خواتین کے کھیل سے ٹرانس جینڈر لوگوں کو روکنا، توانائی کی تلاش پر پابندیاں ہٹانا اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا۔ اسی طرح امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی امریکی شہریت کے قانون میں بھی تبدیلی متوقع ہے۔

ٹرمپ کے  حامیوں کے لئے عام معافی کا اعلان

ایگزیکٹیو احکام میں ٹرمپ کے حامیوں کو معافی ملنے کی امید ہے، جنہیں 4 سال پہلے 6 جنوری کو کیپٹل ہل حملے میں ان کے کردار کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ ٹرمپ کی طرف سے بائیڈن کے کچھ ایگزیکٹیو احکام اور کاموں کو واپس لینے کی بھی امید ہے۔ ان میں سے پیرس آب و ہوا معاہدہ، جیواشم ایندھن پر پابندی ہٹانا اہم ہیں۔ بائیڈن نے اپنے پہلے دن 9 ایگزیکٹیو احکام جاری کیے تھے، ان میں سے 6 میں ٹرمپ کے فیصلوں کو بدلنا شامل تھا۔

 صدر امریکا کا ایگزیکٹو آرڈر کیا ہوتا ہے ؟

این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پہلے دن ایگزیکٹیو احکام کی ریکارڈ تعداد میں دستخط کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ ایگزیکٹیو احکام صدر کے ذریعہ یکطرفہ جاری حکم ہے، جو قانون کی طرح طاقت رکھتا ہے۔ قانون کے برعکس ایگزیکٹیو احکام کو کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کانگریس انہیں پلٹ نہیں سکتی لیکن عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

Watch Live Public News