ویب ڈیسک: وزارت تجارت نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری کے بعد ملک میں پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے، تاہم ان پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزارت تجارت کے حکام نے امپورٹ پالیسی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2025 سے پانچ سال پرانی گاڑیاں درآمد کی جا سکیں گی۔ اس فیصلے کا مقصد عوام کو مزید متبادل فراہم کرنا ہے، تاہم درآمدی توازن برقرار رکھنے کے لیے اضافی ڈیوٹی لاگو کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق تین سال پرانی گاڑیاں انفرادی یا کمرشل مقاصد کے لیے منگوانے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ مالی سال 2027 سے سات سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی بھی اجازت دے دی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ 2027 کے بعد اضافی ڈیوٹی بتدریج کم ہو کر ہر سال 10 فیصد کم کی جائے گی، اور بالآخر معمول کی ڈیوٹی پر آ جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت بیگج اسکیم کے تحت لائی گئی گاڑیوں پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی، تاہم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے 700 دن کی بیرونِ ملک قیام کی شرط برقرار رکھی گئی ہے۔