اسرائیلی فوج کے حملے ،75 شہید، فلسطینیوں کو شمالی غزہ چھوڑنے کا حکم

Israel kills more than 70 in predawn attacks on Gaza’s north, south
کیپشن: Israel kills more than 70 in predawn attacks on Gaza’s north, south
سورس: google

  ویب ڈیسک :  سحری کے وقت اسرائیلی فوج کے حملے، 75 فلسطینی شہید ، فلسطینیوں کو شمالی غزہ سے نکلنے کا حکم ۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں اپنی زمینی کارروائیوں میں توسیع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں میں 430 سے ​​زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس کی فوج اس کوریڈور تک پہنچ گئی ہیں، جو غزہ کی پٹی کے شمال اور جنوب کو تقسیم کرتی ہے۔آئی ڈی ایف نے کہا ہے کہ اس نے غزہ میں ’ہدف بنا کر زمینی کارروائیاں‘ شروع کر دی ہیں۔

جنگی زون‘ سے نکل جائیں، اسرائیل کا غزہ کے باشندوں کو حکم

 بی بی سی نے شمالی غزہ میں بیت حنون سمیت ان علاقوں سے انخلا کے احکامات دیکھے ہیں، جہاں اسرائیلی فوج جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان اویخائے ادرائیی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر بيت حانون، خربة خزاعة اور عبسان الجديدة پر میں موجود لوگوں کو خبردار کیا کہ ''یہ علاقے خطرناک اور جنگی زون ہیں‘‘ اور انہیں اپنی سلامتی کے لیے مشرقی غزہ سٹی اور خان یونس کی طرف چلے جانا چاہیے۔ 
 یہ پیشرفت اسرائیلی فوج کی طرف سے ایک روز قبل غزہ میں بمباری کے نتیجے میں چار سو سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی ہے۔

 نیٹزارم کوریڈور پر قبضہ، غزہ میں بفر زون کا قیام

سرائیل ڈیفنس فورسز (IDF) کے مطابق یہ آپریشن وسطی اور جنوبی غزہ میں سیکورٹی زون کو وسعت دینے اور شمالی اور جنوبی غزہ کے درمیان بفر زون بنانے کے لئے کیا گیا۔ آئی ڈی ایف نے کہا کہ فوج نے نیٹزارم کوریڈور کے مرکز میں اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر لیا ہے۔ جنوری میں جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اسرائیل نے نیٹزارم کوریڈور سے اپنی فوج ہٹالی تھی۔ یہ علاقہ غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ شمالی اور وسطی غزہ کو جنوبی حصے سے الگ کرتا ہے جس کی سرحد مصر سے ملتی ہے۔ تاہم غیر ملکی فوجی کنٹریکٹرز اب بھی شمالی اور جنوبی غزہ کے درمیان چیک پوائنٹس کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے امکان کم ہونے لگے، امریکا

غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوسرے روز بھی جاری رہنے اور پٹی کے مرکز اور جنوب میں زمینی کارروائیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کا ایک عارضی منصوبہ ہے۔ لیکن اس کا موقع تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ہمارے پاس ابھی بھی جنگ بندی میں توسیع اور 5 یرغمالیوں کو زندہ رہا کرنے کا ایک عارضی منصوبہ موجود ہے، ان یرغمالیوں میں امریکی ایڈن الیگزینڈر بھی شامل ہے۔

اس تجویز میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کی رہائی بھی شامل ہو گی۔ جنگ بندی میں توسیع میں ناکامی کا ذمہ دار حماس کو ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا، "موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔"

حماس نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے، میڈیا ایڈوائزر

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے  کہا تھا کہ حماس نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ہیں اور تمام فریقوں کے دستخط شدہ معاہدے کی روشنی میں نئے معاہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس ثالثوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو جارحیت کو روکنے، جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے اور جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے کا پابند بنائے۔ یہ معاہدہ 19 جنوری کو نافذ ہوا تھا۔

یرغمالوں کی رہائی تک مذاکرات نہیں ہوں گے، اسرائیل

ایک اسرائیلی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اگر حماس مزید یرغمالیوں کے حوالے کرنے پر راضی ہوتی ہے تو تل ابیب نے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ امریکی اے بی سی نیٹ ورک کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اسرائیل کی حملوں نئی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک باقی تمام مغویوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا ہے۔

Watch Live Public News