ویب ڈیسک:متحدہ عرب امارات میں ٹریول بین سے اکثریت ناواقف ہے، زیادہ تر افراد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کن حالات میں ملک سے باہر جانے پر پابندی لگ سکتی ہے۔
یو اے ای قانونی ماہرین کے مطابق وہ حالات جن کی وجہ سے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگ سکتی ہے ان میں ’قرض واپس نہ کرنا، باؤنس چیک یا فوجداری مقدمات کا سامنا شامل ہے، ایک بار بین لگنے کے بعد کوئی بھی شخص ملک چھوڑ نہیں سکتا جب تک مسئلہ حل نہ ہو جائے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریول بین دو طرح کےہیں۔
سول کیس:اگر کسی شخص پر قرض ہے اور وہ واپس نہیں کرتا، تو عدالت کے فیصلے کے بعد وہ ٹریول بین کی درخواست دے سکتا ہے۔
کرمنل کیس: اگرکوئی شخص دھوکہ دہی، فراڈ یا کچھ سنگین خلاف ورزیاں کرتا ہے یا باؤنس چیک دیتا ہے سفری پابندی لگ سکتی ہے۔
ٹریفک جرمانے پر سفری پابندی ہوسکتی ہے یا نہیں؟
عام حالات میں صرف ٹریفک جرمانہ ادا نہ کرنے سے ٹریول بین نہیں لگتا، اگر معاملہ کسی سخت خلاف ورزی، کورٹ کیس یا فوجداری معاملے تک پہنچ جائے، تو اس صورت میں پابندی لگ سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ٹریول بین سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ محکمے یا پولیس اسٹیشن سے وجہ معلوم کریں، بقایا رقم یا جرمانے ادا کریں، اگر عدالت کا کیس ہو تو وکیل کے ذریعے درخواست دیں۔
UAE میں رہنے والے افراد کو چاہیے کہ’ اپنے قرض یا چیکس سے متعلق معاملات ہمیشہ درست رکھیں،کسی بھی عدالت یا پولیس نوٹیفکیشن کو نظرانداز نہ کریں، ٹریول پلان سے پہلے اپنا قانونی اسٹیٹس چیک کر لیں۔