ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں سوشل میڈیا پر فحش اور نازیبا مواد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر حکام نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے غیر اخلاقی ویڈیوز اور لائیو اسٹریمز پھیلائی جا رہی ہیں۔
افسران کا کہنا ہے کہ 14 سے 30 سال کی عمر کے نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور خواجہ سرا پشتو زبان میں ایسی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر رہے ہیں، جو نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور غیر اخلاقی رویوں کو فروغ دینے کا سبب بن رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق ضلع صوابی میں ایک ٹک ٹاکر عبدالمعیز کو گرفتار کیا، جو مبینہ طور پر عورت کا روپ دھار کر نازیبا ویڈیوز بنا کر ٹک ٹاک پر وائرل کرتا تھا، یہ کارروائی شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد عمل میں لائی گئی، پشاور سے بھی ماں اور بیٹی کو گرفتار کیا جو ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی ویڈیوز بناتی تھیں۔
ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد بنگش کے مطابق صوبے بھر میں اس سال اب تک 7 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں غیر قانونی اسلحہ کی نمائش، اسٹریٹ کرائمز اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔
صوبائی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی یا نازیبا اکاؤنٹس کی اطلاع پولیس کو دیں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی میں تعاون کریں۔ حکام نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کو غیر اخلاقی یا غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔