(ویب ڈیسک ) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی ایٹمی صنعت کو بمباری کرکے تباہ کر دیا۔ بہت خوب، اسی خوش فہمی میں رہئے!۔کیا یہ امریکا کا اختیار ہے کہ وہ طے کرے کہ ایران کے پاس جوہری تنصیبات ہوں یا نہ ہوں؟،ٹرمپ خود کو معاہدہ کرنے والا شخص کہتے ہیں، لیکن اگر کوئی معاہدہ دباؤ، دھمکی اور پہلے سے طے شدہ نتائج کے ساتھ ہو تو وہ معاہدہ نہیں بلکہ مسلط کردہ جبر ہے اور ایرانی قوم اسکے سامنے کبھی بھی نہیں جھکے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے بیان میں کہا کہ ہم اس وقت نرم جنگ کے میدان میں ہیں۔ اس نرم جنگ میں دشمن کی پوری کوشش ہے کہ قوم کو مایوس اور اپنی صلاحیتوں کی طرف سے نا امید کر دے۔ لیکن علم و سائنس اور اسپورٹس کے میدان میں آپ میڈل جیتنے والوں نے دشمن کے منصوبوں کے بالکل برعکس کام کر کے دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے مقبوضہ فلسطین میں جا کر ڈھیر ساری بے معنی باتیں کر کے مایوس صیہونیوں میں ایک بار پھر امید جگانے اور انہیں حوصلہ دینے کی کوشش کی۔ امریکی صدر کے مقبوضہ فلسطین کے اس دورے کا میری نظر میں یہی تجزیہ ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ 12 روزہ جنگ میں صیہونیوں کو ایسا زبردست طمانچہ پڑا جس کا انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا، جس کی انہوں نے کبھی توقع نہیں کی تھی، اور وہ مایوسی میں ڈوب گئے۔ امریکی صدر کا مقبوضہ فلسطین جانا درحقیقت انہیں اسی مایوسی سے نکالنے کی ایک کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایرانی نوجوانوں کے ہاتھوں سے تیار ہونے والا میزائل، اپنی آگ کے شعلوں سے ان کے بعض حساس تحقیقی مراکز کی گہرائی میں جا کر ان کو راکھ میں بدل سکتا ہے، اور یہی ہوا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی میزائل صیہونی ریاست کے بعض اہم ترین مراکز کے انتہائی محفوظ حصوں میں گھس کر انہیں تباہ کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ میزائل ایرانی نوجوانوں نے خود تیار کیے تھے۔ ہم نے یہ میزائل کہیں سے نہیں خریدے تھے، نہ ہی کہیں سے کرائے پر لیے تھے۔