آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ 7222 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان

آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ 7222 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان
کیپشن: آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ 7222 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان

ویب ڈیسک: وزارتِ خزانہ سے وابستہ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 7222 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کر سکتی ہے۔ مالی تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو آمدنی اور اخراجات کے درمیان ایک بڑی مالی خلیج کو پُر کرنے کے لیے بھاری قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-2024 کے لیے وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی کا تخمینہ 19111 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں ٹیکس آمدنی سے 15270 ارب روپے اور نان ٹیکس ذرائع سے 3841 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8780 ارب روپے منتقل کیے جانے کے بعد وفاق کے پاس خالص آمدنی 10331 ارب روپے بچے گی۔

دوسری جانب وفاقی اخراجات کا مجموعی تخمینہ 17553 ارب روپے ہے، جن میں سے صرف 8106 ارب روپے سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوں گے۔ اس کے بعد وفاق کے پاس دیگر ضروری اخراجات (جیسے دفاع، پنشن، تنخواہیں، ترقیاتی بجٹ، سبسڈیز اور گرانٹس) کے لیے محض 2225 ارب روپے رہ جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ان تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو ممکنہ طور پر اضافی قرضوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

مالی چیلنجز برقرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑا بجٹ خسارہ حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب معیشت پہلے ہی مہنگائی، زرِ مبادلہ کے دباؤ اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے دوچار ہو۔

Watch Live Public News