ویب ڈیسک: ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کو “ہتھیار ڈالنے کی میز” میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قالیباف کے مطابق، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جنگ بندی کی خلاف ورزی جیسے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ حقیقت پسندی سے دور ہیں اور دباؤ کے ذریعے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے حالیہ ہفتوں میں خود کو ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار کر لیا ہے اور دباؤ کی حکمت عملی کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ امریکا کو اپنے غیر معمولی مطالبات واپس لینا ہوں گے اور ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کوئی حل نہیں، اور موجودہ بحران کا واحد راستہ سفارتکاری ہے۔
اسی سلسلے میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکا پر عدم سنجیدگی کا الزام لگاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ماضی کی غلطیاں دہرائی گئیں تو ایران سخت ردعمل دے گا۔
ایران نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کو امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ امریکی تجاویز کو غیر سنجیدہ اور مطالبات کو غیر حقیقی قرار دیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی واضح کیا گیا کہ جوہری مواد کو بیرون ملک منتقل کرنا کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہا۔