ویب ڈیسک: بنگلہ دیش ایئر فورس (بی اے ایف) کا ایک تربیتی جنگی طیارہ دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے دیاباری میں واقع مائل اسٹون کالج کی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد زور دار دھماکے کے ساتھ آگ بھڑک اٹھی۔ جس کے نتیجہ میں بچوں سمیت 19 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائدشدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کردیے گئے ہیں۔
بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایف-7 بی جی آئی ماڈل کا یہ تربیتی طیارہ اتوار کو دوپہر 1 بج کر 6 منٹ پر پرواز کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہوا۔
فائر بریگیڈ اور بنگلہ دیش آرمی کے اہلکار جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ آٹھ فائر یونٹس آگ بجھانے میں حصہ لے رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، حادثے کے وقت اسکول کی چھٹی ہو چکی تھی اور بچے عمارت سے باہر آ رہے تھے۔ متعدد زخمیوں کو فوری طور پر برن اینڈ پلاسٹک سرجری انسٹیٹیوٹ منتقل کیا گیا، جہاں ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
پائلٹ اسکواڈرن لیڈر محمد توقیر اسلام کی حالت یا زندہ بچ جانے سے متعلق متضاد اطلاعات ہیں، تاہم تاحال سرکاری طور پر ان کے بارے میں تصدیق نہیں کی گئی۔
کالج انتظامیہ کے مطابق، طیارہ کیمپس میں موجود ناریل کے درختوں اور سبزہ زار پر گرا جس سے فوری طور پر آگ لگ گئی اور طلبا میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
مزید تفصیلات اور نقصانات سے متعلق معلومات ابھی جاری امدادی کارروائی کے بعد جاری کی جائیں گی۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا گہرے دکھ کااظہار:

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی جیٹ کے المناک حادثے پر گہرا دکھ ہوا ہے۔متاثرہ خاندانوں سے میری دلی تعزیت ہے۔ میری دلی ہمدردی ہے ان سے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ اس مشکل وقت میں خیالات اور دعائیں ہمارے بنگلہ دیشی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔