(ویب ڈیسک ) اسلام آباد کی عدالت نے شراب برآمدگی کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی ۔ عدالت نے ایک بار پھر وارنٹ جاری کرکے گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے کی۔وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور اور ان کے وکلاء عدالت میں پیش نہ ہوئے۔
معزز جج مبشر حسن چشتی نے کہا کہ بار بار کیس کال کرنے پر بھی کوئی عدالت میں پیش نہیں ہوا، علی امین گنڈا پور کو 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کیلئے اڑھائی بجے تک آخری موقع دیا جاتا ہے، اگر وہ پیش نہ ہوئے تو342 کے بیان کا حق ختم کردیں گے۔ جس کےبعد وقفہ کردیا گیا۔
جب دوبارہ سماعت شروع ہوئی توعلی امین گنڈا پور کے وکیل راجہ ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے اور سینیٹ انتخابات میں مصروفیت کے باعث علی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔
معزز جج نے کہا کہ 342 کا بیان ریکارڈ کروادیں بصورتِ دیگر حق ختم کردیں گے۔
اس پر وکیل نے کہا کہ انڈر ٹیکنگ دے دیتے ہیں کہ آئندہ سماعت پر علی امین گنڈاپور عدالت میں بھی پیش ہوں گے اور 342 کا بیان بھی ریکارڈ کروائیں گے، 7 ملزمان اس کیس سے بری ہو چکے ہیں، علی امین گنڈاپور کی بریت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے اس پر بھی ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
جج مبشر حسن چشتی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے عدالت میں کھڑے ہوکر 342 کا بیان ریکارڈ کروانے کی یقین دہانی کروائی تھی، تاریخ بھی علی امین گنڈا پور کی مرضی سے دی گئی تھی۔
علی امین گنڈا پور کے وکیل نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے تمام کیسز میں علی امین گنڈاپور کی ضمانت بھی منظور کر رکھی ہے، ایک تاریخ دے دی جائے آئندہ سماعت پر 342 کا بیان ریکارڈ کروا دیں گے۔
اس پر معزز جج نے کہا کہ آپ اپنی درخواستیں دے دیں کچھ دیر میں آڈر کرتے ہیں۔
جس کے بعد عدالت نے وزیر اعلی کی پی علی امین گنڈا پور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے اورانہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ۔
عدالت نے کیس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کردی۔