مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، جانی نقصان، سیلابی ریلوں میں 15 گاڑیاں بہہ گئیں

مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، جانی نقصان، سیلابی ریلوں میں 15 گاڑیاں بہہ گئیں

ویب ڈیسک: گلگت بلتستان میں شاہراہ تھک بابوسر سیلابی صورتحال کے باعث تباہ کاریاں جاری، گلگت ؛ چلاس ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے،خیبر پختونخوا میں اگلے چند دنوں میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی گئی۔

گلگت بلتستان میں شاہراہ تھک بابوسر سیلاب میں سیاحوں کی 8 گاڑیاں بہہ گئیں، 3 لاشیں برآمد کرلی گئیں،ترجمان وزیراعلی گلگت فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ 4 زخمی سیاحوں کو ریسکیو کر کے اسپتال منتقل کر دیا گیا،سیلاب میں بہہ جانے والے ایک زخمی سیاح کی حالت تشویشناک ہے،   15 سے زائد سیاح تاحال لاپتہ ہیں، وزیر اعلی گلگت بلتستان  کی ہدایت پر ریسکیو آپریشن تیز کر دیا گیا۔

 شاہراہ بابوسر پر پھنسے سینکڑوں سیاحوں کو مقامی آبادی نے پناہ دی،وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے انتظامیہ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیا، شاہراہ بابوسر کئی مقامات پر بند، سڑکیں کھیت کھلیان تباہ ہو گئے،سیلابی صورتحال کے باعث گلگت بلتستان میں کمیونیکیشن نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا، گلگت بلتستان میں تیز بارش اور سیلاب کے باعث  فائبر لائن متاثر،ہزاروں سیاح رابطہ منقطع ہونے کے باعث پریشان، گھروں سے رابطہ نہیں، حکومت کی جانب سے سیکڑوں سیاحوں کو ریسکیو کیا گیا، مزید اقدامات جاری ہیں۔

ترجمان حکومت فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ گلگت ؛ چلاس ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، سیلابی ریلوں سے زخمی ہونے والے سیاحوں کی طبی امداد جاری ہے، سیلابی ریلوں میں دب جانے اور بہہ جانے والی گاڑیوں کی تعداد 15 سے زائد ہے، ساہیوال کی ایک گاڑی میں سوار سیاحوں کو محفوظ مقام منتقل کیا جا چکا ہے۔

دو لاشوں کی شناخت مشعل فاطمہ اور فحت اسلام کے نام ہوئی ہے جن کا تعلق لودھراں بہاولپور سے ہے،وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے سیاحوں کو ریسکیو کے عمل کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کردی۔

سیلابی ریلوں سے دیامر کی حدود میں 20 مقامات پر شاہراہ بابوسر و ریشم بند ہے ، سیلابی ریلوں سے شاہراہ بابوسر کی 8 کلومیٹر سے زائد کا ایریا تباہ ہو گیا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے بابوسر ٹاپ کے گرد 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے میں شدید لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے،  14 سے 15 مقامات پر بڑے پیمانے پر راستے مسدود ہوگئے، مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، سیاحوں کو چلاس میں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،   سیلابی ریلے میں 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔  

ایک زخمی شخص آر ایچ کیو میں زیر علاج ہے، پھنسی گاڑیوں کو ملبے سے نکالنے کا کام جاری ہے،  بھاری پتھروں اور ملبے کے باعث باقی علاقے پیدل رسائی کے لیے بھی ناقابل عبور ہیں۔

این ڈی ایم اے روڈ کی جلد بحالی کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، شاہراہِ قراقرم  لال پہاڑی اور تتھا پانی کے مقامات پر بند ہے، حکام اور این ڈی ایم اے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ 

عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، عوام مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں اگلے چند دنوں میں مزید مون سون بارشوں کی پیشگوئی کی گئی،  وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی صوبہ بھر خصوصا سیاحتی اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی۔

علی امین گنڈاپور نے ہدایت کی کہ پولیس،  بلدیات، آبپاشی، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنائی جائے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں مالی و جانی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے ضروری انتظامات مکمل کئے جائیں۔

متوقع بارشوں کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہونے والی سڑکوں کو بروقت کھولنے کے درکار مشینری کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے،اضلاع کی سطح پر مراکز صحت میں ضروری عملے اور ادویات کی ہمہ وقت دستیابی کے لئے ضروری اقدامات کئے جائیں، تمام اضلاع میں ایمرجنسی کنٹرول رومز کو 24 گھنٹے فعال کیا جائے۔ 

Watch Live Public News