ویب ڈیسک: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے) نے 24 جولائی تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب، اچانک آنے والی طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان کے اضلاع ہنزہ، شگر اور گانچھے میں شمشال، ہنزہ، چپورسن، کلیک، شگر، شیوک اور ہُشے دریاؤں میں اچانک سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں دریائے جہلم، دریائے نیلم، دریائے پونچھ، دریائے مہل، بیٹار نالہ، بھمبر نالہ، کانشی دریا اور جہلم و پونچھ کے معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دریائے چترال، دریائے کابل، دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ، مقم نالہ اور کلپانی نالہ سمیت خیبر، کرم، اورکزئی، کوہاٹ، بنوں، کرک، ہنگو، لکی مروت، شمالی و جنوبی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، مانسہرہ، بونیر اور صوابی کے مقامی ندی نالوں میں بھی سیلابی ریلوں کا خطرہ ہے۔
پنجاب میں ڈی جی خان کے پہاڑی برساتی نالوں، دریائے سواں اور پوٹھوہار ریجن جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب (مرالہ) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی علاقوں) میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جبکہ ڈورا، ڈوٹا، ڈوارہ، بھمبر، ہلسی، ایک، پلکھو، بین، بسنتر، ڈیک اور سکھی نالوں میں بھی پانی کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کے تھین، پونگ اور بھاکھڑا ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا تو دریائے راوی اور ستلج میں بہاؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، چکوال اور اٹک کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو دریاؤں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی، امدادی ٹیموں کی پیشگی تعیناتی اور حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
شہریوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تیز بہاؤ، سیلابی ریلوں اور برساتی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، غیر ضروری سفر سے احتراز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔