ایلون مسک پر ٹوئٹر خریداری میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا الزام ثابت

ایلون مسک پر ٹوئٹر خریداری میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا الزام ثابت
کیپشن: ایلون مسک پر ٹوئٹر خریداری میں سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا الزام ثابت

ویب ڈیسک: امریکی عدالت کی جیوری نے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو 2022ء میں ٹوئٹر (موجودہ ایکس) کی خریداری کے دوران سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کا ذمہ دار قرار دے دیا، تاہم انہیں دانستہ دھوکہ دہی کی سازش کے الزام سے بری کر دیا گیا۔

سان فرانسسکو میں ہونے والے اس سول مقدمے میں 9 رکنی جیوری نے تقریباً چار روز کی مشاورت کے بعد فیصلہ سنایا۔ مقدمہ ٹوئٹر کے شیئر ہولڈرز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جن کا مؤقف تھا کہ مسک کے بیانات اور ٹوئٹس کی وجہ سے کمپنی کے شیئرز کی قیمت متاثر ہوئی۔

جیوری کے مطابق ایلون مسک کی دو ٹوئٹس، خاص طور پر وہ جس میں انہوں نے "ٹوئٹر ڈیل" کو "عارضی طور پر معطل" قرار دیا، سرمایہ کاروں کے لیے گمراہ کن ثابت ہوئیں، جبکہ ایک پوڈکاسٹ میں دیا گیا بیان محض ذاتی رائے قرار پایا، اس لیے اسے دھوکہ دہی نہیں مانا گیا۔

عدالت نے مسک کو متاثرہ سرمایہ کاروں کو فی شیئر تقریباً 3 سے 8 ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 2.1 ارب ڈالر بنتی ہے۔

مقدمے کے دوران ایک اہم موضوع ٹوئٹر پر جعلی اکاؤنٹس اور چیٹ بوٹس کی تعداد تھی۔ ایلون مسک کا مؤقف تھا کہ کمپنی نے جعلی اکاؤنٹس کی اصل تعداد چھپائی، جبکہ ٹوئٹر انتظامیہ نے الزامات کو مسترد کیا۔

یاد رہے کہ ایلون مسک نے ابتدا میں ٹوئٹر خریدنے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی تھی، لیکن بعد میں اپنا فیصلہ بدل کر 44 ارب ڈالر میں خریداری مکمل کی اور بعد میں ٹوئٹر کا نام تبدیل کر کے "ایکس" رکھ دیا۔

ایلون مسک کے وکلاء نے فیصلے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب مسک کو سوشل میڈیا بیانات کے حوالے سے قانونی کارروائی کا سامنا ہوا؛ 2018ء میں ٹیسلا کی نجکاری سے متعلق متنازع بیان پر بھی ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا، جس میں جیوری نے انہیں بری کر دیا تھا۔

Watch Live Public News