ویب ڈیسک: یورپی یونین نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت برسلز میں ہونے والے یورپی سفارتی اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس میں متعدد یورپی ممالک نے اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس میں نیدرلینڈ کے وزیر خارجہ کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس میں اسرائیل کے ساتھ جاری تجارتی و سفارتی معاہدوں پر نظرثانی کی تجویز دی گئی۔ اس قرارداد کو 17 یورپی وزرائے خارجہ کی حمایت حاصل ہوئی۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم 45 ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔
نیدرلینڈز نے اپنے مؤقف میں کہا کہ غزہ کی انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جب کہ یورپی یونین کی سینئر عہدیدار کاجا کالاس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت دے۔
یورپی ذرائع ابلاغ کے مطابق، 26 یورپی ممالک نے مغربی کنارے میں پرتشدد اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں لگانے کی حمایت کی، تاہم ہنگری نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
ادھر سویڈن کے وزیر خارجہ نے عندیہ دیا ہے کہ یورپی یونین جلد چند اسرائیلی وزراء پر براہ راست پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کرے گی۔
اسی دوران برطانیہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے غزہ کی ناکہ بندی کو "اخلاقی طور پر غلط اور غیر معقول" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی موجودہ حکومت اپنی متنازع پالیسیوں اور سخت بیانیے کے باعث خود کو عالمی برادری سے الگ کر رہی ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے 2 مارچ سے غزہ کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امداد نہ پہنچی تو آئندہ 48 گھنٹوں میں 14 ہزار سے زائد فلسطینی بچے جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، اگرچہ گزشتہ روز پانچ امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوئے، مگر اسرائیلی فوج نے ان کی تقسیم کی اجازت نہیں دی۔ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، اور صرف آج صبح سے اب تک 73 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔