ویب ڈیسک:اتوار کے روز ایم کیو ایم (پاکستان) کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نکہت شکیل کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ وہ خود بھی حیران رہ گئیں، ہیکرز نے اُن کا واٹس ایپ ہیک کرکے اُن کے عزیزوں، رشتے داروں یا رابطہ کاروں سے تقریبا 15 لاکھ روپے بٹور لیے۔
رکن قومی اسمبلی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نکہت شکیل نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے انہیں مختلف نمبروں سے تواتر کے ساتھ کالز موصول ہوئیں جس پر انہوں نے پہلے تو فون رکھ دیا۔
نکہت شکیل کے مطابق کالر نے اپنا تعارف پی ایم ڈی سے کروایا اور بتایا کہ آپ کے کچھ ضروری ڈاکومینٹس موصول ہوئے جنہیں آپ تک پہنچانا ضروری ہے، اسی کے ساتھ اُس نے موبائل پر بھیجا گیا کوڈ مانگا، جس پر میں سمجھی کہ پیر کو اسلام آباد میں صحت کمیٹی کی میٹنگ سے متعلق دستاویزات ہوں گی۔
میں نے نیند کی حالت میں انہیں غلطی سے کوڈ بھیج دیا جس کے بعد نوسربازوں نے واٹس ایپ ہیک کر کے کئی نمبرز پر رابطے کر کے پیسے منگوائے‘۔

رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ نوسربازوں نے میرے رابطے میں رہنے والے نمبروں کو ایسے پیغامات بھیجے جس کی وجہ سے انہوں نے بھی تصدیق کیے بغیر پیسے بھیجنا شروع کردیے جبکہ کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے تصدیق کی اور فراڈ کا شکار ہونے سے بچ گئے۔
ڈاکٹر نکہت شکیل کے مطابق ہیکرز نے جن نمبرز پر رابطے کیے اُن کو دو آن لائن موبائل والٹ اور بینک اکاؤنٹ دیے گئے، جن میں سے دو بینک اکاؤنٹس اکاؤنٹ تھے اور دو مختلف ناموں کے موبائل نمبر تھے جن پر پیسے ٹرانسفر ہوئے۔
’میں نے بینک سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر تعاون سے انکار کیا کہ آپ کا اکاؤنٹ ہمارے پاس موجود نہیں جس کی بنیاد پر آپ کو کوئی معلومات دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے‘۔
نکہت شکیل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ سے متعلق آن لائن ایپلیکیشن جمع کرائی اور رابطہ کیا تو انہیں تحریری درخواست کے ساتھ کراچی کے دفتر آنے کی ہدایت کی گئی۔
رکن قومی اسمبلی کے مطابق انہوں نے تحریری درخواست جمع کرادی تاہم اس دوران این سی سی آئی اے کے عملے نے انہیں بتایا کہ ’آن لائن پورٹل اکتوبر سے خراب ہے، شکایت کنندہ کی درخواست صرف جمع ہوتی ہے تاہم وہ سسٹم کی خرابی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پاتی جس کی وجہ سے کارروائی نہیں ہوپارہی‘۔
رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ’جب میرے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو عام شہری کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا‘؟