ویب ڈیسک: بھارتی خاتون اوپنر سمرتی مندھانا نے نئی دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے کرکٹ کی تاریخ میں نیا باب رقم کر دیا۔
ہفتے کے روز کھیلے گئے اس ہائی اسکورنگ مقابلے میں مندھانا نے محض 50 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے بھارتی کرکٹ میں سب سے تیز سنچری کا اعزاز اپنے نام کیا اور شائقین کرکٹ کو حیران کر دیا۔ اس شاندار کارنامے کے ساتھ ہی انہوں نے بھارتی مردوں کے کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی کا 12 سال پرانا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے 2013 میں جے پور میں آسٹریلیا ہی کے خلاف 52 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔
مندھانا کی یہ شاندار اننگز نہ صرف بھارت کی تاریخ میں تیز ترین ون ڈے سنچری ہے بلکہ خواتین ون ڈے کرکٹ میں بھی مجموعی طور پر دوسری تیز ترین سنچری کا اعزاز رکھتی ہے۔ اس سے قبل آسٹریلیا کی میگ لیننگ نے 2012 میں نیوزی لینڈ کے خلاف صرف 45 گیندوں پر سنچری اسکور کر کے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔
مندھانا نے آسٹریلیا کے دیوہیکل 413 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے بیَتھ مونی کی 57 گیندوں پر بنائی گئی سنچری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مونی کرن رولٹن کے ساتھ خواتین کرکٹ کی دوسری تیز ترین سنچری کا ریکارڈ رکھتی تھیں مگر یہ اعزاز اب بھارتی اوپنر کے حصے میں آ چکا ہے۔
یہ شاندار اننگز مندھانا کے لیے کئی حوالوں سے یادگار رہی۔ یہ اس کیلنڈر ایئر میں ان کی چوتھی سنچری ہے جبکہ کیریئر میں دوسری مرتبہ انہوں نے لگاتار دو میچز میں سنچری بنائی۔ بھارت کی کسی اور خاتون کھلاڑی نے اب تک یہ کارنامہ دو بار انجام نہیں دیا۔ اس کارکردگی کے بعد مندھانا 13 ون ڈے سنچریوں کے ساتھ نیوزی لینڈ کی سوزی بیٹس کے برابر دوسرے نمبر پر آ گئی ہیں جبکہ آسٹریلیا کی میگ لیننگ کی 15 سنچریاں اب بھی سب سے زیادہ ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلوی بیٹنگ لائن نے بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور بھارتی باؤلرز کو شدید دباؤ میں رکھا۔ مہمان ٹیم نے 60 چوکے اور 5 چھکے لگاتے ہوئے 412 رنز کا پہاڑ جیسا مجموعہ بنایا، جو بھارت کے خلاف آسٹریلیا کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے۔ اگرچہ وہ خواتین ون ڈے کرکٹ کے سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ توڑنے کے قریب پہنچ گئے تھے، مگر آخری اوورز میں ڈرامائی ناکامی کے باعث یہ اعزاز ان کے ہاتھ نہ آ سکا۔