ٹرمپ کی تنقید سے امریکی اسٹاک مارکیٹس اور ڈالر دباؤ کا شکار

ٹرمپ کی تنقید سے امریکی اسٹاک مارکیٹس اور ڈالر دباؤ کا شکار
کیپشن: ٹرمپ کی تنقید سے اسٹاک مارکیٹس اور ڈالر دباؤ کا شکار

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاشی بیانات اور مرکزی بینک کے چیئرمین پر براہِ راست تنقید کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس اور ڈالر کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو شرح سود میں کمی نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، اور انہیں "بڑا نقصان اٹھانے والا" قرار دیا۔ اس بیان کے بعد مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔

ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ فیڈرل ریزرو کو معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں واضح کمی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیروم پاول معاشی تبدیلیوں پر سست ردعمل دے رہے ہیں، جس سے ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے چیئرمین فیڈ کو طنزیہ انداز میں "مسٹر ٹو لیٹ" بھی کہا۔

مارکیٹوں میں شدید گراوٹ
رپورٹ کے مطابق صدر کے بیانات کے بعد پیر کے روز S&P 500 انڈیکس میں 2.4 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سال کی ابتداء سے اب تک اس کی مجموعی قدر میں 12 فیصد کی کمی آ چکی ہے۔

اسی طرح ڈاؤ جونز میں 2.5 فیصد، اور نیس ڈیک میں 2.5 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی۔ رواں سال اب تک ڈاؤ تقریباً 10 فیصد اور نیس ڈیک 18 فیصد تک نیچے جا چکا ہے۔

یہی نہیں، بلکہ امریکی ڈالر اور حکومتی بانڈز، جنہیں عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، بھی موجودہ معاشی بے یقینی سے متاثر ہوئے ہیں۔

تجارتی پالیسیوں کے اثرات
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے ٹیرف اقدامات خود امریکی مارکیٹ پر دباؤ ڈالنے کا سبب بن رہے ہیں، جس کے باعث کساد بازاری کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اور فیڈرل ریزرو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Watch Live Public News