ویب ڈیسک: ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جس کا اظہار حالیہ جنگ کے دوران تیز، وسیع اور بعض مواقع پر پیشگی کارروائیوں کی صورت میں ہوا۔
ایرانی خبررساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد اکرمینیا نے کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانا ایران کی پیشگی کارروائی کی حکمتِ عملی کی ایک مثال تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’دشمن کے جنگ میں داخل ہونے سے پہلے ہی‘‘ اردن میں موجود اس کے اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی فوجی ترجمان کے مطابق جارحانہ فوجی نظریے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا اور یہ ردِعمل ضرورت پڑنے پر ابتدائی حملے سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران کے مطابق حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا، جس میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
اس سے قبل ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے سابق کمانڈر علی عبداللہی بھی مسلح افواج کی فوجی حکمتِ عملی دفاعی سے جارحانہ ہونے کا بیان دے چکے ہیں۔
دفاعی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ملک میں دفاعی ہتھیاروں اور سازوسامان کی پیداوار دوگنا ہوگئی ہے۔
ان کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی دفاعی صنعت کے بعض حصوں کو نشانہ بنائے جانے کے باوجود مقامی سطح پر ہتھیاروں اور گولہ بارود کی پیداوار اور فوری فراہمی جاری رہی، جس نے ایران کی جنگی صلاحیت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رضا طلائی نیک نے کہا کہ 1979 کے انقلاب سے قبل ایران صرف 31 بنیادی دفاعی مصنوعات تیار کرتا تھا، جبکہ اب ملک میں ایک ہزار سے زائد جدید دفاعی نظام، ہتھیار اور گولہ بارود تیار کیے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید دعویٰ تھا کہ بعض اہم دفاعی مصنوعات کی پیداوار میں جنگ کے دوران تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔