ویب ڈیسک: عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے بھارت کے حالیہ دورے سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ منتظم ستادرو دتہ کے مطابق، میسی کو بھارت کے 3 روزہ دورے کے عوض 89 کروڑ بھارتی روپے (₹890 ملین) کی رقم ادا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق، اس دورے پر مجموعی طور پر 100 کروڑ بھارتی روپے (₹1,000 ملین) خرچ ہوئے، جن میں سے 11 کروڑ روپے بھارتی حکومت کو ٹیکس کی مد میں ادا کیے گئے۔ اخراجات کا 30 فیصد اسپانسرشپ اور 30 فیصد ٹکٹوں کی فروخت سے پورا کیا گیا۔
دورے کے دوران، میسی نے کولکتہ، حیدرآباد، ممبئی اور نئی دہلی میں مختلف فین ایونٹس میں شرکت کی، اور گجرات کے شہر جام نگر بھی گئے۔ ان کے ہمراہ ساتھی فٹبالرز لوئس سواریز اور روڈریگو ڈی پال بھی موجود تھے۔
تاہم کولکتہ کے سالٹ لیک اسٹیڈیم میں ہونے والا ایونٹ بدانتظامی کا شکار ہو گیا۔ ہجوم کے باعث میسی شائقین کو واضح طور پر نظر نہیں آ سکے اور بعد میں مشتعل شائقین نے اسٹیڈیم میں توڑ پھوڑ کی۔ اس واقعے پر مغربی بنگال حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کر دی ہے۔
منتظمین نے بتایا کہ میسی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے عوامی ہجوم میں جسمانی قربت سے گریز کر رہے تھے، تاہم انہیں گھیر لیا گیا جس کے باعث انہوں نے ایونٹ ادھورا چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد مغربی بنگال کے وزیرِ کھیل اروپ بسواس کو شدید تنقید کا سامنا ہوا اور انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مالی معاملات، سیکیورٹی غفلت اور بدانتظامی کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔