ویب ڈیسک: آسٹریلیا کی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ بونڈی بیچ میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے سے قبل حملہ آوروں نے گھریلو ساختہ بم بھی ہجوم پر پھینکے تھے، تاہم خوش قسمتی سے وہ پھٹ نہیں سکے۔
14 دسمبر کو بونڈی بیچ پارک میں ہونے والے حملے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد اسلحہ قوانین مزید سخت کرنے اور یہود دشمنی کے خلاف اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق، مبینہ حملہ آور ساجد اکرم کے پاس چھ ہتھیار تھے۔ اس کے بیٹے نوید اکرم پر قتل اور دہشت گردی سمیت 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس رپورٹ کے مطابق، باپ اور بیٹے نے حملے کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل شروع کی تھی اور حملے سے دو روز پہلے بونڈی بیچ کے ساحلی پارک کی ریکی بھی کی گئی تھی۔ پولیس نے ایک ویڈیو بھی ضبط کی ہے، جس میں دونوں افراد شدت پسند تنظیم کے جھنڈے کے سامنے بیٹھ کر حملے کے اسباب بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
پولیس فیکٹ شیٹ کے مطابق، حملے کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں افراد کو بھاری اشیاء گاڑی میں رکھتے ہوئے دیکھا گیا، جن میں شاٹ گنز، رائفلز، پائپ بم، ٹینس بال بم اور ایک دیسی ساختہ دھماکا خیز آلہ شامل تھا۔ فائرنگ سے پہلے حملہ آوروں نے بم پھینکے، مگر وہ پھٹنے میں ناکام رہے۔
بعد ازاں، پولیس نے کرائے کے مکان سے بم بنانے کا سامان اور تھری ڈی پرنٹ شدہ اسلحے کے پرزے بھی برآمد کیے۔
اس واقعے کے بعد نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمان کو ہنگامی طور پر طلب کیا گیا، جہاں اسلحہ رکھنے پر سخت پابندیاں، دہشت گردی کی علامتوں پر پابندی اور احتجاجی اجتماعات سے متعلق نئے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے۔