ویب ڈیسک: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارت دفاع پر کلہاڑا چلادیا، جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤ ن سمیت بحریہ کی سربراہ ایڈمرل فرنچیٹی اور فضائیہ کے نمبر دو وائس چیف آف اسٹاف جنرل جیمز سلیف کو عہدوں سے فارغ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایئر فورس جنرل براؤن کو اچانک عہدے سے فارغ کیا ہے، وہ فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے تاریخ ساز عہدیدار سمجھے جاتے ہیں اور فوج میں مختلف نسلوں اور صنفی برابری کے چیمپئن مانے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار ملاقات، جنرل CQ کی برطرفی ٹل گئی
وہ امریکی فوج میں دوسرے سیاہ فام جنرل تھے جو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین کے عہدے تک پہنچے تھے۔
امریکا ان کے سولہ ماہ کے دور میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں پھنسا رہا تھا، صدر ٹرمپ نے انکی جگہ ایئر فورس کے لیفٹیننٹ جنرل ڈین ریزن کین کو نیا جوائنٹ چیفس آف سٹاف مقرر کردیا ہے۔
چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیزا اور ائیرفورس کے وائس چیف جنرل جیمز بھی فارغ
دوسری طرف امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزتھ نے اعلان کیا کہ وہ چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیزا فرنچیٹی اور ایئر فورس کے وائس چیف آف اسٹاف جنرل جیمز سلیف کوہٹا رہے ہیں ۔
ہیگزتھ نے ایک بیان میں کہا، "ہم ان کی خدمات اور اپنے ملک کے لیے لگن کے لیے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔"

پیٹ ہیگزتھ نے آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے جج ایڈووکیٹ جنرلز جن میں آرمی لیفٹیننٹ جنرل جوزف برجر III، لیفٹیننٹ جنرل چارلس پلمر اور رئیر ایڈمرل لیا رینالڈز شامل ہیں کو بھی ان کے عہدوں سے برطر ف کردیا ہے ۔

امریکی فوج سے 45 سو ملازمین فارغ، برطرفیوں کا بڑا ریلا آئے گا
صدر ٹرمپ نے فوجی قیادت میں مزید تبدیلیوں کا بھی عندیہ دیا ہے جن میں امریکی فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی برطرفی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پینٹاگون میں ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی کرتے ہوئے ساڑھے پانچ ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آپ کی خدمات کا شکریہ ، صدرٹرمپ کی سوشل میڈیا پر پوسٹ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کیا، " جنرل چارلس "سی کیو" براؤن کا امریکا کے لیے 40 سال سے زائد خدمات کے لیے شکریہ ۔۔۔۔۔۔ وہ موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف بھی تھے۔ " ایک اچھے شریف آدمی اور ایک شاندار رہنما ہیں، ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ایک بہترین مستقبل کی تمنا۔۔۔۔
صدرٹرمپ نے جن جنرلوں کو برطرف کیا وہ کون تھے؟
امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگزتھ اس سے قبل جنرل براؤن اور ایڈمرل فرانچیٹی کی سرعام توہین کرچکے ہیں ۔ 7 نومبر کو ایک پوڈ کاسٹ میں، انہوں نے جنرل چارلس براؤن کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا اور اپنی 2024 کی کتاب میں فرنچیٹی کو " ایک اور ناتجربہ کار" قراردیا تھا۔

یادرہے پیٹ ہیگزتھ کے نیشنل گارڈ سروس کے تجربے کے مقابلے جنرل براؤن اور ایڈمرل فرنچیٹی کے پاس دہائیوں کا آن فیلڈ فوجی تجربہ ہے جن میں حقیقی جنگی دورے بھی شامل ہیں ۔
جج ایڈووکیٹ جنرلز کی اپنی متعلقہ سروس کے اندر وسیع قانونی معاملات کی مجموعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ موضوعات فوج کے کورٹ مارشل سسٹم سے لے کر فوجیوں کے ذریعہ طاقت کے جائز استعمال کے بارے میں تعین تک ہیں، چاہے وہ مقامی طور پر تعینات ہوں یا بیرون ملک۔

آرمی لیفٹیننٹ جنرل جوزف برجر III نے جولائی 2024 میں سروس کے اعلیٰ یونیفارمڈ اٹارنی کا عہدہ سنبھالا۔ فضائیہ اور خلائی فورس کے سربراہ وکیل، لیفٹیننٹ جنرل چارلس پلمر نے مئی 2022 میں اپنا عہدہ سنبھالا۔

بحریہ کے ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل کرسٹوفر فرنچ، جو کہ بحریہ کے آخری سینیٹ سے تصدیق شدہ جج ایڈووکیٹ جنرل تھے تاہم تعیناتی کے محض چند ماہ بعد ہی دسمبر میں اچانک استعفیٰ دے دیا۔ فی الحال ریئر ایڈمرل لیا رینالڈز قائم مقام ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں ۔

امریکی وزیر دفاع ہیگزتھ نے اپنی کتاب "دی وار آن واریئرز" میں وردی پوش وکلاء کا مذاق اڑایا ان کا خیال ہے کہ امریکی فوجیوں کو شہریوں کے قتل سے روکنے کے لیے حد سے زیادہ پابندی والے اصول نافذ کیے گئے تھے۔