ویب ڈیسک:( جواد ملک ) ’’ ریزن’’ کی عرفیت سے معروف ائیرفورس کے لیفٹنٹ جنرل جان ڈین کین ISIS یا داعش کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں.
تفصیلا ت کے مطابق وہ بنیادی طورپر ورجینیا ملٹری انسٹی ٹیوٹ کے سابق طالب علم اور ایف سولہ لڑاکا طیارے کے پائلٹ ہیں ۔
11 ستمبر 2001 کو امریکاکے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے فضائی دفاع کی کمان ان کے پاس تھی اور وہ کسی بھی ہائی جیک شدہ طیارے کو مار گرانے کے لئے مختلف ٹیموں کے ہمراہ مسلسل فضا میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کابڑافیصلہ،امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین عہدے سے فارغ
2003 کے حملے کے دوران عراق کے سکڈ بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوج کا منصوبہ کےخالق ہیں۔ صدام حسین کی افواج جنگ کے دوران ایک بھی اسکڈ میزائل کو فائر کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
خصوصی آپریشنز میں اپنے وسیع تجربے کے علاوہ، کین کے کیریئر میں وائٹ ہاؤس میں قیام بھی شامل ہے، جہاں اس نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کونسل کے لیے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کی قیادت کی۔
اپنے کیریئر میں ایک مدت کے لیے، جنرل کین نے پارٹ ٹائم نیشنل گارڈ سروس میں فرائض سرانجام دئیے اور قومی سلامتی کے کاروباری اور سرمایہ کار کے طور پر کام کیا۔
جنرل جان ڈین کین کی تعیناتی کیلئے قوانین نظر انداز
ائیر فورس جنرل کین چئیر مین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمٹی کے لسے ایک انتہائی غیر معمولی انتخاب ہے۔
امریکی آئین کے مطابق "صدر کسی افسر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے طور پر صرف اسی صورت میں تعینات کر سکتا ہے جب افسر نے۔۔۔
(A) جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے وائس چیئرمین کے طور پر کام کیا ہو؛
(B) آرمی کا چیف آف اسٹاف، چیف آف نیول آپریشنز، چیف آف اسٹاف آف دی ایئر فورس، میرین کور کا کمانڈنٹ، یا چیف آف اسپیس آپریشنز؛ یا
(C) بطورایک متحد یا مخصوص جنگی کمانڈ کے کمانڈر فرائض سرانجام دئیے ہوں ۔
ائیرفورس لیفٹنٹ جنرل ڈین کین نےمندرج بالا تمام عہدوں میں سے کسی پر بھی کبھی کام نہیں کیا۔
تاہم، قانون یہ بھی کہتا ہے کہ ان تمام شرائط کو ختم کیا جا سکتا ہے "اگر صدر یہ طے کرتا ہے کہ قومی مفاد میں یہ تعیناتی انتہائی ضروری ہے۔"
اس صورت میں کانگریس کو کسی بھی نامزدگی کی تصدیق کرنی ہوگی۔