ویب ڈیسک: آسٹریلیا کی پچز پر بابر اعظم کی پرفارمنس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سڈنی سکسرز کے اہم میچ سے قبل بابر کا یوں ٹیم چھوڑنا، کیا یہ محض اتفاق تھا یا پرفارمنس کے دباؤ کا نتیجہ؟
بی بی ایل کے اس سیزن میں بابر اعظم کی کارکردگی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی۔ ابتدا میں سست اسٹرائیک ریٹ پر تنقید ہوئی، پھر بڑے اسکور کی کمی محسوس ہوئی، اور اس کے بعد ایک ‘ایک رن’ کی کنٹروورسی نے سڈنی سکسرز میں ان کی پوزیشن پر سوالات اٹھا دیے، جب اسٹیو اسمتھ نے رن لینے سے انکار کیا۔
بابر کے اعداد و شمار اور اسٹرائیک ریٹ پریشان کن ہیں:
11 میچز میں 202 رنز, 19 چوکے اور 3 چھکے, اسٹرائیک ریٹ: 103.06, 7 بار ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو پائے.
اسٹرائیک ریٹ میں بی بی ایل کے بیٹرز 150 سے 200 تک کھیل رہے ہیں، لیکن بابر کا اسٹرائیک ریٹ بہت نیچے رہا۔ 11 میچز میں سے 5 بار وہ 2 رنز سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
اگرچہ بابر اور سڈنی سکسرز نے ایک دوسرے کو مسکراتے ہوئے الوداع کہا، سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی خوشگوار علیحدگی ہے؟ کیا ایک کھلاڑی جسے رنز بنانے میں مشکل پیش آ رہی ہو، اہم میچ سے پہلے 'ریلیز' کیا جانا، دراصل ڈراپ کرنا نہیں ہے؟