(ویب ڈیسک )طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حکومت کے اندر باہمی سازشوں اور ٹکراؤ کا اعتراف کر لیا۔
لیک آڈیو میں ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا کہ اندرونی اختلافات جاری رہے تو اماراتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار دھڑوں کے درمیان تصادم کھل کر سامنے آ گیا، اتحاد محض دعوؤں تک محدود رہ گیا،طالبان وزیرِ مہاجرین خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک اور قندھار قیادت میں کشیدگی شدید ہو چکی۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کا حکم قندھار سے آیا، کابل دھڑے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا،کابل قیادت کا انٹرنیٹ بحال کرنا سپریم لیڈر کے خلاف بغاوت قرار دیا جا رہا۔
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرج الدین حقانی کا دھڑا نسبتاً اعتدال پسند، بچیوں کی تعلیم کے حق میں سمجھا جاتا ہے، ہیبت اللہ اخوندزادہ سخت گیر علما کے گھیرے میں ہیں، اختیارات قندھار منتقل، کابل عملاً کمزور ہو رہا، طالبان کے 20 سے زائد صوبوں میں حقانی نیٹ ورک کا اثر، اس کے باوجود قندھار کا کنٹرول برقرارہے۔
رپورٹ کے مطابق اندرونی طاقت کی جنگ افغانستان کو نئی خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتی ہے، خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔