ویب ڈیسک: مودی سرکار کا ہندوتوا نظریہ اب محض ایک انتہا پسند سوچ نہیں رہا بلکہ یہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں چلنے والا فسطائی ایجنڈا بن چکا ہے، جہاں اقلیتوں، سچ بولنے والوں، اور اب خود سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہندوتوا غنڈوں کی بربریت کا شکار بن رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ہندوتوا غنڈے مودی راج میں آزاد، بھارتی عوام صرف نفرت، تشدد اور بیہمانہ سلوک کا شکار ہے، مودی راج میں ہندوتوا پسندوں کے ہاتھوں نہ صرف اقلیتیں بلکہ فوجی اہلکار بھی غیر محفوظ اور بےبس ہیں۔حال ہی میں اتر پردیش کے شہر مرزاپور میں ریلوے اسٹیشن پر سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک اہلکار پر ہندوتوا غنڈوں نے بہیمانہ تشدد کیا۔
این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق 19 جولائی کو براہما پُترا ایکسپریس کا انتظار کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے اہلکار کا ہندو یاتریوں سے ٹکٹ کے معاملے پر جھگڑا ہوا،8 سے زائد ہندو یاتریوں نے سی آر پی ایف اہلکار کو وردی میں ہی گھیر کر زمین پر گرا دیا،سی آر پی ایف اہلکار نے مزاحمت کی کوشش کی مگر یاتریوں نے اُسے زمین پر گرا کر مکوں، تھپڑوں اور لاتوں سے شدید مارا،اہلکار زمین سے اُٹھا تو ایک ہندو یاتری نے دوبارہ تھپڑ مارا اور باقی یاتریوں نے اُسے گھیر کر دوبارہ حملہ کیا،اس دوران پلیٹ فارم پر موجود چند افراد نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی مگر حملہ جاری رہا۔
مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی بدستور برقرار ہے اور ہندوتوا امن دشمنوں کو کھلی چھوٹ اور ریاستی تحفظ حاصل ہے، مودی کا بھارت اب انصاف نہیں، ہندوتوا جنون کا میدانِ جنگ بن چکا ہے جہاں قانون صرف اکثریتی غنڈوں کا غلام ہے، مودی راج میں ہندوتوا امن دشمن آزاد، سچ بولنے والے غدار، اور غنڈے 'راشٹروادی ہیرو' بنا دیے گئے۔