ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی میں کمی کا سہرا اپنے سر باندھتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اُن کی مداخلت سے ممکن ہوئی۔
وائٹ ہاؤس میں جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامافوسا سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کو صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا۔ ان کا کہنا تھا، ’’میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ معاملہ بہت بگڑ رہا تھا۔‘‘
انہوں نے پاکستانی عوام کو ’’ بہترین‘‘ اور ان کی قیادت کو ’’عظیم‘‘ قرار دیا، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا دوست کہا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ دونوں ملکوں کے ساتھ اہم معاہدوں پر کام کر رہا ہے۔
تاہم بھارتی حکومت نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ممالک نے باہمی طور پر کیا تھا، اور اس میں امریکی حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔
وکرم مسری کا کہنا تھا کہ ’’ ٹرمپ نے ہم سے کوئی اجازت نہیں لی، وہ خود منظر پر آئے۔‘‘
یاد رہے کہ 10 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔