مودی سرکار کی انتقامی کارروائیاں، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر آپریشن شروع 

مودی سرکار کی انتقامی کارروائیاں، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر آپریشن شروع 
کیپشن: مودی سرکار کی انتقامی کارروائیاں، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بلڈوزر آپریشن شروع 

ویب ڈیسک: پاکستان سے عبرتناک شکست کے بعد مودی سرکار کی معصوم بھارتی مسلمانوں پر وار جاری ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق  آپریشن سندور کی ہزیمت چھپانے کے لیے مودی سرکار کی مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دے کر انکے گھروں پر مسلسل حملے جاری ہیں۔حال ہی میں مودی سرکار نے ہزاروں مسلمان خاندانوں کو گھربدر اور انکے گھر مسمار کرنا شروع کر دیے۔ 

ٹی آر ٹی نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ اور ویڈیو جاری کر دی۔

مودی سرکار نے غیرقانونی بنگلہ دیشی کا بہانہ بنا کر مسلم بستیوں پر بلڈوزر چلا دیے۔رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ نسل کشی کی جانب بڑھتا بھارت اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔7 ہزار سے زائد گھروں کو زبردستی خالی کرایا گیا، جن میں زیادہ تر مسلمان خاندان مقیم تھے۔حیران کن طور پر انہی علاقوں میں موجود ہندوؤں کے مکانات کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ مودی سرکار کا یہ وار واضح مذہبی تعصب کی عکاسی ہے۔

ٹی آر ٹی کا کہنا ہے کہ احمد آباد کے چندولا تالاب پر ہزاروں مسلمان کھلے آسمان تلے آ گئے۔ مودی سرکار کے حکم پر ان کے مکانات مٹی کا ڈھیر بنا دیے گئے۔ 20 مئی 2025 کو مسمار کیے گئے گھروں میں محمد چاند نامی مسلمان کا گھر بھی شامل، انصاف کی دہائیاں۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی سرکار مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا رہا ہے تاکہ پاکستان سے اپنی شکست کا غصہ نکال سکے۔یہ آپریشن محض تجاوزات نہیں، مودی کے فاشزم کی کھلی مثال ہے۔مودی مسلمانوں کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال کر کے ایک نیا گجرات 2002 دہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے لیے کھلی جیل بنتا جا رہا ہے۔مودی کی یہ کارروائی بلڈوزر کے پیچھے چھپی ہندوتوا انتہا پسندی ہے، جبکہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔جس زمین پر مسلمانوں کے گھر گرائے جا رہے ہیں، وہی زمین ہندو آبادی کے لیے محفوظ قرار پاتی ہے، یہ دوہرامعیار نسل پرستی کا ثبوت ہے۔

Watch Live Public News