ویب ڈیسک: چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی زیر صدارت پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز کا 80واں اجلاس ، اجلاس میں پی سی بی کے اپ ڈیٹڈ فنانشل رولز کی منظوری ، اجلاس میں بی او جی کے 78 ویں اجلاس اور 79 ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں مالی سال کے لیے آڈیٹرز کے ازسر نو تقرر کی منظوری ، کئی برس سے استعمال نہ ہونے والے اکاؤنٹس کو بند کرنے کی منظوری ، کارپوریٹ کریڈٹ کارڈ ز کے حصول کی منظوری، گلوبل انیٹی کرپشن کوڈ اپنانے کے لئے پروسیجرل ردو بدل ، کلبز کی سکروٹنی کے لئے طریقہ کار میں رد و بدل کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں بی او جی کے 78 ویں اجلاس اور 79 ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی، بورڈ آف گورنرز کے ممبران انوار غنی،ظہیر عباس،سجاد علی کھوکھر،ظفر اللہ، تنویر احمد، محمد اسماعیل قریشی، طارق سرور اور دیگر کی شرکت کی۔
چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر، چیف فنانشل آفیسر، انٹرنیشنل کرکٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن، ڈومیسٹک کرکٹ، ہیومن ریسورس، وویمنز کرکٹ کی سربراہ اور لیگل ڈیپارٹمنٹ کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غنی کلب کرکٹ کو سپورٹ کر رہا ہے، ہائی پرفارمنس سنٹر کے بعد غنی گراؤنڈ میں سہولیات بہت اچھی ہیں۔
اللہ نے چاہا تو ایشیاء کپ میں ہماری ٹیم بہت اچھا پرفارم کرے گی، بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات ہو گی جب بھی ہو گی، ہم مذاکرات کے لیے بھیگ مانگیں، یہ نہیں ہو گا۔
ٹیم کی پرفارمنس آپ کو اچھی نظر آئے گی، کسی کو ٹیم میں ڈالنے یا نکالنے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے، میں چاہتا ہوں وہ لڑکے آئیں جو پرفارم کریں، لڑکیوں کی کرکٹ میں سیاست تھی وہ ختم کر دی۔
کپتانی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو گا وہ سلیکٹرز کریں گے، ہیڈ کوچ نے گزشتہ ون ڈے سیریز کی رپورٹ جمع کرا دی ہے، سینٹرل کنٹریکٹ پرفارمنس کی بنیاد پر دیا گیا، جس کی پرفارمنس اچھی ہوگی، انہیں اے کیٹگری بھی دی جائے گی، ٹیم پر بلا وجہ تنقید نہ کریں اور انہیں سپورٹ کریں۔