(ویب ڈیسک ) نوکری کا جھانسہ دیکر اجتماعی زیادتی اور بے پناہ تشدد کا شکار بننے والی 24 سالہ سیماب دم توڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق بے نظیر بھٹو ہسپتال میں سیکورٹی اہلکار کی خاتون سے مبینہ زیادتی ، سیکورٹی اہلکار شاہزیب کے خلاف تھانہ وارث خان پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون عابدہ اپنی 9 سالہ بیٹی کے ہمراہ چلڈرن وارڈ آئی تھی ، رات 12 بجے واش روم گئی تو سیکورٹی اہلکار زبردستی اندر داخل ہوا، زیادتی واقعہ کے بعد ہسپتال کے اندر موجود ہینڈ سینیٹائزر پی لیا۔
مقدمے کے اندراج کے بعد سیکورٹی اہلکار شاہزیب کو پولیس نے گرفتار کر لیا ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا بہاولپور میں لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی اور جاں بحق ہونے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔انہوں نے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کرلی ۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نےسوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ۔انہوں نے کہا کہ زمہ دار ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تشویشناک حالت میں وکٹوریہ اسپتال داخل 24 سالہ سیماب دم توڑ گئی ۔ ملزمان بارہ روز قبل لڑکی کو تشویشناک حالت میں وکٹوریہ اسپتال ایمرجنسی چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم غفران سمیت دو ملزمان کو گرفتار کیا ہوا ہے ۔
ورثاء کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد لڑکی پر تشدد کیا تھا ۔ لڑکی کے جسم کے مختلف حصوں تیزاب ڈالا گیا تھا ۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے گہرے نشانات پائے گئے اور گردے بھی فیل ہوچکے تھے ۔
ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے معاملے پر 3 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔ انکوائری کمیٹی ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عنایت الرحمان کی سربراہی میں کام کرے گی ۔
انکوائری کمیٹی میں ڈاکٹر مختار سرور خان اور ڈاکٹر کرن طارق بطور ممبر شامل ہیں ۔ انکوائری کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو پیش کرے گی ۔
ایم ایس ڈاکٹر طاہر رضوی نے انکوائری کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔
واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو ہسپتال میں گزشتہ رات سیکورٹی اہلکار نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔