(ویب ڈیسک ) سویڈن کی پولیس نے ایک 12 سالہ بچے کو گرفتار کر لیا ہے جسے سویڈش میڈیا نے “ چائلڈ اسیسن” (کم عمر قاتل) کا نام دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کم عمر بچے کو 2 لاکھ 50 ہزار سویڈش کرونر (تقریباً 27 ہزار امریکی ڈالر) اس مقصد کے لیے دیے گئے تھے کہ وہ شہر مالمو جا کر ایک مخصوص شخص کو قتل کرے، تاہم اس نے غلطی سے ایک 21 سالہ نوجوان کو گولی مار دی جو اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ قتل کا حکم کس نے دیا اور اس کی وجہ کیا تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ یہ 12 سالہ لڑکا اس سے پہلے بھی قتل کی وارداتوں میں ملوث رہا ہو۔
سویڈش اخبار ایکسپریسن کے مطابق، عینی شاہدین کی اطلاع پر پولیس نے 16 دسمبر کو مشتبہ بچے کو گرفتار کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کم عمر بچہ اپنی دادی کے گھر سے دوسرے شہر بھاگ گیا تھا۔جہاں وہ 7سال کی عمر سے رہ رہا تھا، اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بعد ازاں پرتشدد گینگز کے ساتھ جڑ گیا۔
پولیس کا ماننا ہے کہ حملے کا اصل ہدف اسی گاڑی میں سوار ایک اور شخص تھا۔ گاڑی میں موجود تمام افراد کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، جن میں مرنے والا شخص بھی شامل ہے جو ڈکیتی، سرکاری اہلکار کو دھمکیاں دینے اور دیگر الزامات میں 2 سال سے زائد قید کاٹ چکا تھا۔
سویڈن میں اس سے قبل بھی 12 سال کی عمر کے بچوں پر دھماکوں، ہینڈ گرینیڈ رکھنے اور جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کام کرنے کے شبہات رہے ہیں، تاہم ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی کم عمر بچے پر جان لیوا فائرنگ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مالمو پولیس میں تفتیش کے ذمہ دار افسر راسم چیبل نے صحافیوں کو بتایا کہ “ہم دیکھ رہے ہیں کہ مجرموں کی عمر مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ہینڈ گرینیڈ جیسے واقعات میں بہت کم عمر ملزمان سامنے آئے ہیں۔ اس پر سوچنا پڑتا ہے کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے اور ہم اس رجحان کو کیسے روک سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کم عمر مجرموں کو پیشہ ور جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کرتے ہیں اور پھر سنگین جرائم کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ سویڈن میں 15 سال سے کم عمر بچوں کو جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔ تاہم اس کیس کی سنگینی کے باعث، استغاثہ نے نابالغ کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔