SIFCکا دوسرا سال توانائی کےشعبے میں انقلاب:جامع حکمت عملی کےمثبت اثرات

SIFCکا دوسرا سال توانائی کےشعبے میں انقلاب:جامع حکمت عملی کےمثبت اثرات
کیپشن: SIFCکا دوسرا سال توانائی کےشعبے میں انقلاب:جامع حکمت عملی کےمثبت اثرات

ویب ڈیسک: اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ( SIFC) کے دوسرے سال میں توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور منصوبہ بندی کے تحت پاکستان نے خود انحصاری کی جانب نمایاں قدم اٹھایا ہے۔ بجلی چوری، گردشی قرضے، متبادل توانائی، سرمایہ کاری اور ڈسٹریبیوشن سسٹم میں بہتری کے لیے کی گئی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق  ایس آئی ایف سی کی زیر قیادت توانائی کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور دیرپا ترقی کے اہداف کو بنیاد بناتے ہوئے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ بجلی چوری کے خلاف ٹاسک فورس کی موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 86 ارب روپے کی خطیر ریکوری کی گئی ہے، جو کہ ایک اہم سنگ میل ہے۔

گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل شروع کیا جا چکا ہے، جب کہ ٹیرف میں توازن لانے کے لیے بھی اسکیم ترتیب دی گئی ہے تاکہ عوامی اور صنعتی صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

 سکھر میں 150 میگاواٹ پاور پراجیکٹ تعمیر،سندھ جنوبی میں توانائی کی ضروریات کی تکمیل میں بہتری،گلگت بلتستان میں ایک میگاواٹ کا سولر منصوبہ مکمل، ماحول دوست بجلی کی فراہمی،سعودی عرب کی 101 ملین ڈالر کی امداد سے آزاد کشمیر میں 70 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا۔

ایس آئی ایف سی کے تعاون سے چین کی کمپنی 'سِائنوٹیک سولر' کا 3 گیگاواٹ کا سولر پلانٹ کراچی میں قائم، بیٹری اور ای وی ٹرک پروڈکشن شروع ہوگئی۔

 این پی جی سی ایل(نارتھرن پاور جنریشن کمپنی لیمیٹڈ) اور چینی کمپنی کے درمیان 300 میگاواٹ سولر پلانٹ کے لیے 200 ملین ڈالر کا معاہدہ، شنگھائی الیکٹرک کی تھر کول بلاک 1 میں سرمایہ کاری سے توانائی میں مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ ملے گا۔

براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت 3 آئل ریفائنریوں کی اپگریڈیشن کا عمل جاری ہے، جس میں 6 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

ماڑی پٹرولیم نے ’غازیج فیلڈ‘ میں گیس کی نئی دریافت کی ہے، جبکہ اٹک، وزیرستان اور دادو میں بھی اہم ذخائر سامنے آئے ہیں۔ یہ کامیابیاں پاکستان کو توانائی میں خود کفالت کی جانب لے جا رہی ہیں۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے ذریعے سروس ڈیلیوری میں بہتری کی نئی راہیں کھل رہی ہیں۔

ایس آئی ایف سی کی جانب سے توانائی، پیٹرولیم اور قابل تجدید ذرائع میں کی جانے والی ان اصلاحات کو پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ 

Watch Live Public News