ویب ڈیسک: (علی زیدی)ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالتے ہی استعفیٰ دینے والی سابق اٹارنی جنرل جیسیکا ابر کی پراسرار موت واقع ہوگئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ ورجینیا میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئیں۔ پولیس نے موت کی وجہ دیرینہ بیماری کو قرار دیدیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 43 سالہ جیسیکا ڈی ایبر نے 2021 سے 2025 تک مشرقی ضلع ورجینیا کے لیے امریکی اٹارنی کے طور پر کام کیا۔ جن کا تقرر سابق صدر جوبائیڈن نے کیا تھا اور وہ 20 جنوری تک خدمات انجام دیتی رہیں۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے سابق اٹارنی جنرل کی موت کو دیرینہ بیماری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں اسکندریہ پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایبر کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں صبح 9 بجکر 18 منٹ پر ایک نامعلوم کال موصول ہوئی۔
اے پی ڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ "پروٹوکول کے معاملے کے طور پر، اس کی موت کے حالات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔" "ورجینیا کے چیف میڈیکل ایگزامینر کا دفتر موت کی وجہ اور طریقہ کا تعین کرے گا۔"
محکمہ انصاف کے مطابق ایبر نے 2006 میں ولیم اینڈ میری لا اسکول سے گریجویشن کی۔
ایبر کے جانشین امریکی اٹارنی ایرک ایس سیبرٹ نے کہا کہ وہ ہفتے کے روز ایبر کی موت کی خبر سن کر انتہائی رنجیدہ ہیں۔
سیبرٹ نے کہا کہ "وہ ایک رہنما، سرپرست اور پراسیکیوٹر کے طور پر بے مثال تھیں، ہم حیران ہیں کہ اس نے اس دنیا میں اپنے انتہائی مختصر وقت میں کتنا کام کیا۔ اس کی پیشہ ورانہ مہارت نے معیار قائم کیا۔"