ویب ڈیسک: امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی پر بین الاقوامی طلباء کے داخلے پر عائد پابندی کو عارضی طور پر معطل کر دیا، یہ فیصلہ ہارورڈ کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کے بعد آیا، جس میں یونیورسٹی نے اس پابندی کو غیر آئینی اور انتقامی قرار دیا تھا۔
فیصلہ دینے والی جج ایلیسن بوروگز نے کہا کہ اگر یہ پابندی نافذ کی جاتی تو ہارورڈ کو فوری اور ناقابل تلافی نقصان پہنچتا، اس اقدام سے 6,700 سے زائد بین الاقوامی طلباء متاثر ہوتے، جنہیں یا تو امریکہ چھوڑنا پڑتا یا دوسرے اداروں میں منتقل ہونا پڑتا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ یہودی طلباء کے لیے معاندانہ ماحول پیدا کر رہا ہے اور غیر ملکی طلباء کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے، اس کے علاوہ، یونیورسٹی پر چین کے ساتھ تعاون کے الزامات بھی لگائے گئے تھے، جنہیں ہارورڈ نے مسترد کر دیا۔
ہارورڈ کے صدر ایلن گاربر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور بین الاقوامی طلباء کے حقوق کی فتح ہے،یونیورسٹی نے ہمیشہ قانونی تقاضوں کی پاسداری کی ہے اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے کو قبول نہیں کرے گی۔
یہ مقدمہ ہارورڈ کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دوسرا قانونی چیلنج ہے، اس سے قبل، انتظامیہ نے یونیورسٹی کی $2.2 بلین سے زائد کی وفاقی فنڈنگ منجمد کر دی تھی۔
بین الاقوامی تعلیمی برادری نے اس فیصلے کو سراہا ہے، جبکہ ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے ہارورڈ کے بین الاقوامی طلباء کو منتقلی کی پیشکش کی ہے، یہ فیصلہ امریکی تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور بین الاقوامی طلباء کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔