سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لئے بری خبر

سرکاری یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لئے بری خبر

ویب ڈیسک: سرکاری یونیورسٹیاں شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن  نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث یونیورسٹیاں ٹیوشن فیسوں میں اضافہ کرسکتی ہیں جس سے غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کی اعلیٰ تعلیم تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں وزارتِ تعلیم نے بتایا کہ 2018-19 کے بعد سے یونیورسٹیوں کے لیے سالانہ بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ دوسری جانب داخلوں، اساتذہ اور عملے کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

HEC کے مطابق فنڈنگ میں ہونے والی کمی نہ صرف یونیورسٹیوں کی مالی خودمختاری کے لیے رکاوٹ ہے بلکہ اداروں کو فیس بڑھانے پر بھی مجبور کر سکتا ہے، جس سے کم آمدنی والے طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ میں 35 فیصد کمی کی گئی جو  2024-25 میں 61.1 ارب روپے سے کم ہو کر 2025-26 میں 39.5 ارب روپے رہ گیا ہے، اسکالرشپس کے مواقع بھی متاثر ہورہے ہیں، اس کمی کے باعث مستحق طلبہ کے لیے مختلف تعلیمی منصوبے اور وظائف محدود ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی جامعات کے تعاون سے 27 غیر ملکی اسکالرشپ پروگرامز چلا رہا ہے، جن کے ذریعے طلبہ بیچلرز سے لے کر پوسٹ ڈاکٹل سطح تک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیح بظاہر سڑکوں اور انفراسٹرکچر جیسے ’نظر آنے والے‘ منصوبوں پر ہے، جبکہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا نقصان مستقبل میں کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

Watch Live Public News