ویب ڈیسک: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں آئندہ عام انتخابات فروری کے پہلے نصف میں منعقد ہوں گے اور یہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن ماحول میں ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق پروفیسر یونس نے یہ بات پیر کے روز نیویارک میں امریکی خصوصی ایلچی برائے جنوبی و وسطیٰ ایشیا اور بھارت کے نامزد سفیر سرجیو گور سے ملاقات کے دوران کہی۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ عبوری حکومت انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے جامع تیاریوں میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت انتخابی عمل کی ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے ملک میں پرامن فضا قائم رکھنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
US Special Envoy on South Asia Calls on Chief Adviser
— Chief Adviser of the Government of Bangladesh (@ChiefAdviserGoB) September 23, 2025
New York, September 22: Chief Adviser Professor Muhammad Yunus on Monday said the Interim Government is making comprehensive preparations to ensure a free, fair, and peaceful general election in the first half of February.… pic.twitter.com/pwhlxpJDPv
اس موقع پر سرجیو گور نے پروفیسر یونس کی قیادت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا بنگلہ دیش کے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے انتخابات کے شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے امریکی حمایت کا یقین بھی دلایا۔
ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس میں تجارت کے فروغ، جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کی بحالی، روہنگیا بحران اور ڈھاکا کو نشانہ بنانے والی گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ جیسے موضوعات شامل تھے۔ پروفیسر یونس نے ایک ملین سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے امریکا کی جاری انسانی امداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی بچانے والی معاونت خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ امریکی حکام نے اس امداد کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی۔
چیف ایڈوائزر نے مزید بتایا کہ عبوری حکومت نے طویل عرصے سے غیر فعال سارک کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ علاقائی ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش آسیان (ASEAN) میں شمولیت کا خواہاں ہے تاکہ جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کے ساتھ قریبی انضمام کے ذریعے اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھائی جا سکے۔ پروفیسر یونس نے نیپال، بھوٹان اور بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ قریبی علاقائی تعاون کے ذریعے بنگلہ دیش کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔