سال کے طاقتورترین طوفان کاخطرہ، ہانگ کانگ میں نظام زندگی مفلوج

سال کے طاقتورترین طوفان کاخطرہ، ہانگ کانگ میں نظام زندگی مفلوج
کیپشن: سال کے طاقتورترین طوفان کاخطرہ، ہانگ کانگ میں نظام زندگی مفلوج

ویب ڈیسک: ہانگ کانگ میں اس سال کے سب سے طاقتور سمندری طوفان ’’ راگاسا‘‘ کے پیشِ نظر منگل کے روز شہر کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ شہریوں سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی پرزور اپیل کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق طوفان کے باعث 700 سے زائد پروازیں جمعرات تک معطل رہیں گی اور ساحلی علاقوں میں شدید خطرہ لاحق ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارےکے مطابق ہائی الرٹ جاری ہونے کے بعد شہر میں گھبراہٹ کا ماحول پیدا ہو گیا، لوگ بڑی تعداد میں سپر مارکیٹوں کا رخ کرتے رہے جس سے اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ دو دن دکانیں بند رہ سکتی ہیں، اسی لیے بڑے پیمانے پر خریداری کی جا رہی ہے۔ گھروں اور کاروباری مراکز کی کھڑکیوں پر ٹیپ لگائی جا رہی ہے تاکہ شیشے ٹوٹنے کی صورت میں نقصان کم ہو سکے۔

ہانگ کانگ آبزرویٹری کے مطابق ’’ راگاسا‘‘ 220 کلومیٹر فی گھنٹہ (137 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ گوانگ ڈونگ کے ساحل کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔ یہ طوفان شمالی فلپائن سے گزرنے کے بعد ہانگ کانگ، مین لینڈ چین اور تائیوان کی جانب بڑھ رہا ہے اور اپنی سپر ٹائفون شدت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ منگل کی دوپہر 2 بج کر 20 منٹ پر ہانگ کانگ میں سگنل 8 کا اعلان کیا گیا، جو کہ تیسرے درجے کا ہنگامی انتباہ ہے، جس کے تحت کاروبار اور ٹرانسپورٹ سروسز بند کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بدھ کے روز ساحلی اور بلند مقامات پر شدید بارش اور طوفانی لہروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کی سطح بعض علاقوں میں چار سے پانچ میٹر (12 سے 15 فٹ) تک بلند ہو سکتی ہے۔ یہ صورتحال 2017 کے طوفان ’’ہیٹو‘‘ اور 2018 کے ’’مانگ کھت‘‘ جیسی تباہی مچا سکتی ہے، جن میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

مقامی حکومت نے نچلے علاقوں کے رہائشیوں کو ریت کے تھیلے فراہم کیے ہیں تاکہ وہ گھروں کو محفوظ بنا سکیں، جبکہ شہری خوراک، پانی، ادویات اور بیٹریز ذخیرہ کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ کاروباری اداروں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رعایتی اسکیمیں بھی شروع کی ہیں۔

ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج نئی پالیسی کے تحت کھلا رہے گا، تاہم حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ طوفان اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی شدید اثر ڈال سکتا ہے۔

Watch Live Public News