سندھ طاس معاہدے کی معطلی،کیا چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟

سندھ طاس معاہدے کی معطلی،کیا چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟
کیپشن: سندھ طاس معاہدے کی معطلی،کیا چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟

ویب ڈیسک: چین نے تبت کے علاقے میں دریائے برہم پترا پر دنیا کے سب سے بڑے ہائیڈرو پاور ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس نے خطے میں پانی کے حوالے سے نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ بھارت نے اس منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی نازک موڑ پر ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی،کیا چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟، تاہم بھارتی حکام کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے کے باعث دریائے برہم پترا کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جو بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں پانی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور دوہرا معیار؟

دوسری جانب، بھارت نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ طے شدہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ بھارت خود چین کے ساتھ اسی نوعیت کے خدشات کا شکار ہے، جہاں اسے برہم پترا دریا کی ممکنہ بندش یا بہاؤ میں کمی کا خوف لاحق ہے۔

برہم پترا کی اہمیت اور خدشات

برہم پترا دریا تبت سے نکل کر بھارت کے شمال مشرقی علاقے اروناچل پردیش اور آسام سے ہوتا ہوا بنگلہ دیش میں داخل ہوتا ہے۔ چین کا مجوزہ منصوبہ اس مقام پر واقع ہے جہاں دریا ایک دشوار گزار موڑ مڑتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ 137 ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور اس کا مقصد چین کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

اگرچہ چین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ منصوبہ نیچے بہنے والے ممالک کے پانی کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہوگا، مگر بھارتی ماہرین اس یقین دہانی سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ڈیم سے دریا کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی ممکن ہے، جو زرعی شعبے، ہائیڈرو پاور اور کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

علاقائی کشیدگی کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کے اثرات بھارت اور بنگلہ دیش پر مرتب ہوتے ہیں، تو خطے میں پانی کی تقسیم ایک نیا تنازع بن سکتی ہے۔ بھارت میں پہلے ہی ماحولیات، زراعت اور بجلی کی فراہمی کے حوالے سے پریشانی کی لہر دوڑ چکی ہے۔

پانی کے معاملے پر چین اور بھارت کے درمیان اعتماد کا فقدان اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے، اور یہ صورتحال مستقبل میں جنوبی ایشیا میں ایک نئی کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

Watch Live Public News