وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا راولپنڈی آمد،ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے ہنگامی دورے

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا راولپنڈی آمد،ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے ہنگامی دورے

ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا راولپنڈی جی پی او انڈر پاس اور محمد نوازشریف فلائی اوور پراجیکٹ کا دورہ, وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پراجیکٹ کے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا, وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی معائنہ کیا.

وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہاتھ ہلا کر پراجیکٹ پر کام کرنے والے مزدوروں کی گرم جوشی کا جواب دیا,وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف  نےپراجیکٹ میں تعمیراتی معیار کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی، وزیرعلیٰ مریم نوازشریف نے روڈز کے اطراف میں دورویہ درخت لگانے کا حکم بھی دیا۔
  راولپنڈی کے مال روڈ کو سگنل فری بنانے کے لئے مزید دو انڈر پاسز بنائے جائیں گے، انڈر پاس سے روزانہ دو لاکھ گاڑیاں با آسانی گزرسکیں گی، انڈر پاس بننے سے اے ایف آئی سی اور ایم ایچ کے مریضوں کو سڑک عبور کرنے میں آسانی ہوگی، مجموعی طور پر مال روڈ کو 26 کلو میٹر تک سگنل فری بنایا جائے گا۔

محمد نوازشریف فلائی اوور 2.3ارب اور انڈر پاس پراجیکٹ 4.38ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، محمد نوازشریف فلائی اوور کی تعمیر کا کام 85 فیصد اور انڈر پاس کی تعمیر 60فیصد تک مکمل ہوچکی ہے۔

سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے زیر تکمیل پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، محمد نوازشریف فلائی اوور کے اووہیڈ برج کی پائلز کی تنصیب کا کام مکمل، فلائی اوور کے 56 گر ڈرز تیار، 32 گرڈرز فلائی اوور پرنصب کر دیئے گئے۔

محمد نوازشریف فلائی اوور کے7 ڈرین کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے، فلائی اوور کی باؤنڈری وال بھی مکمل کر لی گئی، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مال روڈ جی پی او چوک پر انڈرپاس کی تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا، انڈر پاس کے 2093 پائل اور گرڈررکی تعمیر مکمل کیا جائے گا۔

پیدل گزرنے والے شہریوں کے لئے خصوصی راستہ بھی پراجیکٹ میں شامل، راولپنڈی ڈویژن میں 56 ترقیاتی منصوبوں پر کی تعمیر پر کام جاری ہے، نوازشریف فلائی اوور کی تکمیل سے شہریوں کو موٹروے اور راولپنڈی رنگ روڈ تک براہ راست رسائی ممکن ہوگی، محمد نوازشریف فلائی اوور کی تکمیل سے 79 ہزار گاڑیاں مستفید ہونگی۔

رکن قومی اسمبلی محترمہ طاہرہ اوورنگ زیب ، سینئر منسٹر مریم اوور نگ زیب , چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

Watch Live Public News