موساد نے  گوتم اڈانی  کے دشمنوں کو کیسے بے نقاب کیا 

موساد نے  گوتم اڈانی  کے دشمنوں کو کیسے بے نقاب کیا 

(ویب ڈیسک ) سپوتنک انڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی   موساد  نے بھارتی بزنس مین گوتم اڈانی  کے خلاف چلنے والی مبینہ عالمی مہم  کو کاؤنٹر کیا۔  اور اس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم  بنیامن نیتن یاہو نے ذاتی دلچسپی لی۔

رپورٹ کے مطابق، موساد نے امریکا میں مقیم انڈین اوورسیز کانگریس  کے سربراہ  سام پترودا کے گھر کے سرورز کو ہیک کیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا بھارتی اپوزیشن رہنما   راہول گاندھی  اور ان کے قریبی لوگ ہنڈن برگ ریسرچ  سے رابطے میں تھے یا نہیں۔

  ہنڈن برگ نے جنوری 2023 میں گوتم اڈانی پر بڑے مالی فراڈ کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد اڈانی گروپ کے حصص کی قیمتوں میں شدید گراوٹ آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ الزامات اس وقت سامنے آئے جب اڈانی کی کمپنی اسرائیل کے سب سے بڑے بندرگاہ حیفہ پورٹ  کی خریداری کے معاہدے کے قریب تھی۔ نیتن یاہو نے ذاتی طور پر اڈانی سے پوچھا کہ آیا ہنڈن برگ کی رپورٹ ان کے بزنس کے لیے خطرہ ہے؟ اڈانی نے کہا: "یہ سب جھوٹ ہے"۔

نیتن یاہو نے جواب دیا: "ہمیں اندازہ ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے، لیکن اگر یہ رپورٹ آپ کو کمزور کرتی ہے تو یہ ہمارے مفادات کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہم اس کی مکمل تفتیش کریں گے"۔

'آپریشن زیپلن' کی شروعات:

اسی ملاقات کے بعد موساد نے 'آپریشن زیپلن' کا آغاز کیا۔ اس مشن میں موساد کے دو اہم یونٹس Tzomet (ہیومین انٹیلیجنس) اورKeshet (سائبر آپریشنز) نے کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف ہنڈن برگ کے بانی نیتھن اینڈرسن  پر نظر رکھی بلکہ ان افراد اور تنظیموں کی بھی نگرانی کی جو اڈانی اور بھارتی وزیر اعظم  نریندر مودی کو نقصان پہنچانے کی مبینہ سازش میں شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق، موساد نے دعویٰ کیا ہے کہ ہنڈن برگ کو کچھ امریکی وکیلوں، صحافیوں، ہیج فنڈز اور سیاست دانوں کی مدد حاصل تھی، جن میں سے کئی کا تعلق  بائیڈن انتظامیہ  اور جارج سوروس  سے بتایا گیا ہے۔

 رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ   راہول گاندھی  نے بھی 2023 میں امریکا کے شہر پالو آلٹو  میں ہنڈن برگ سے وابستہ افراد سے ملاقات کی تھی۔

موساد نے مبینہ طور پر ایک ای میل کو ڈی کوڈ کیا، جس میں لکھا تھا: **"نیٹ (نیتھن) کی رپورٹ تو صرف شروعات ہے، مزید کچھ آنے والا ہے"۔ اس آپریشن کے دوران موساد نے امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں تحقیقات کیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موساد نے اڈانی کو جنوری 2024  میں ایک خفیہ ملاقات میں 353 صفحات پر مبنی 'زیپلن ڈوزیئر' فراہم کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ کیسے مختلف میڈیا ادارے، غیر ملکی ایجنسیاں جیسے USAID، اور بھارتی اپوزیشن مل کر اڈانی کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، USAID نے اس مہم میں مرکزی کردار ادا کیا۔ تاہم جب موساد نے یہ معلومات بعض مغربی میڈیا اداروں کو فراہم کیں، تو زیادہ تر نے اسے شائع نہیں کیا۔ صرف  فرانس کی 'میڈیا پارٹ'  نامی ویب سائٹ نے رپورٹ جاری کی۔

نومبر 2024 میں امریکاکی SEC اور محکمہ انصاف نے اڈانی کے خلاف قانونی کارروائی کی، جو ناکام رہی۔ جنوری 2025  میں نیتھن اینڈرسن نے قانونی تحفظ کے بدلے   ہنڈن برگ ریسرچ کو بند  کرنے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن یہ معاہدہ ختم ہو گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ  نے دوبارہ امریکی صدارت سنبھالی۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس  نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب حکومت کی جانب سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے تاکہ عوام اصل ہنڈن برگ رپورٹ کو بھول جائیں۔

Watch Live Public News