ویب ڈیسک: نومنتخب صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع بیان دے کر حلف اٹھانے سے قبل ہی پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ کینیڈا ، پاناما کینال اور گرین لینڈ پر امریکی دعویٰ دائر کرنے کے بعد پوری دنیا دم بخود ہے کہ حلف اٹھانے کے بعد امریکی صدر کس انتہا تک جائیں گے؟
ٹرمپ نے پاناما کینال پر بھی امریکی کنٹرول بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔ کیونکہ ٹرمپ کے خیال میں پاناما نہر کے استعمال کے اخراجات زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں۔
اس پر پاناما کے صدر راوؤل مولینو نے دوٹوک جواب دیا ہے۔ X پر جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا، " پاناما کینال کا ہر مربع میٹر اور اس کے آس پاس کا علاقہ پاناما کا ہے اور ( پاناما سے) تعلق برقرار رہے گا۔"
درحقیقت، پاناما کینال کا تعلق پاناما کے باشندوں سے ہے۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے پریس کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے کہا۔
پاناما نہر کہاں واقع ہے اور اسکی اہمیت کیا ہے؟
نہرِ پانامہ سے عالمی تجارت کا پانچ سے چھ فیصد ہر سال گزرتا ہے۔
یہ نہر اتنی اہمیت کے حامل تجارتی راستے پر واقع ہے کہ تجارتی بحری جہازوں کو بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ جہاز کا سائز اتنا ہی ہو کہ وہ نہرِ پانامہ سے گزر سکے۔
اس نہر کی تعمیر سے قبل بحری جہازوں کو امریکا کے مغربی یا مشرقی کنارے سے دوسری جانب جانے کے لیے برِاعظم جنوبی امریکا کے آخری کونے کیپ ہارن سے ہو کر گزرنا پڑتا تھا۔ مگر اب نہرِ پانامہ کی وجہ سے یہ سفر آٹھ ہزار ناٹیکل میل یا 15 ہزار کلومیٹر کم ہو گیا ہے۔
اس پورے سفر میں دو سے تین ہفتے تک کا وقت درکار ہوتا تھا تاہم اب نہرِ پاناما کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک صرف 10 گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔
سنہ 1881 میں فرانسیسی سفارتکار فرڈینینڈ ڈی لیسیپیس نے اس نہر کی تیاری پر کام شروع کیا۔ یہ وہی شخص تھے جنھوں نے نہرِ سوئز کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچایا تھا جسے 1869 میں کھولا گیا۔
کچھ ہی سال بعد 1889 میں فرانس کو اس پر کام بند کرنا پڑا کیونکہ ہر ماہ 200 کے قریب کارکن زرد بخار اور ملیریا جیسی بیماریوں اور حادثات میں ہلاک ہو رہے تھے جبکہ بے پناہ اخراجات کے باوجود یہ منصوبہ مکمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
اس کے بعد اس پر ایک اور فرانسیسی کمپنی کچھ کچھ کام کرتی رہی یہاں تک کہ سنہ 1904 میں امریکا نے یہاں موجود سامان خرید کر اس منصوبے کو اپنا لیا۔ فرانس کو اس فروخت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
پاناما نہر کی خاطر امریکا نے نیا ملک کیسے بنایا؟
امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ اس منصوبے کو امریکا کے لیے بطور عالمی طاقت بہت اہم تصور کرتے تھے چنانچہ اُنھوں نے کانگریس پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ فرانس سے اس منصوبے کے حقوق خرید لے۔
امریکا کے وزیرِ خارجہ جان ہے اور کولمبیا کے ناظم الامور ٹامس ہیرن کے درمیان نہرِ پاناما کی زمین امریکا کو لیز پر دیے جانے کے لیے معاہدہ طے پایا تاہم کولمبیا کی پارلیمان سے اسے منظوری نہ مل سکی۔
پاناما اس وقت کولمبیا کا حصہ تھا اور وہاں لوگوں میں علیحدگی پسند جذبات موجود تھے۔
چنانچہ امریکا نے ان کا استعمال کرتے ہوئے پاناما کی آزادی کی حمایت کی، باغیوں کی مدد کی اور پاناما کو خود مختار ملک تسلیم کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا۔
اس کے بعد امریکا اور پاناما کے درمیان معاہدہ طے پا گیا اور امریکا نے اس پر کام شروع کر دیا۔ امریکا نے اسے سنہ 1999 میں پاناما کے حوالے کیا اور اب یہ نہر واپس پاناما کے زیرِ انتظام ہے۔
پاناما نہر سے ایک سال میں کتنی آمدن؟
مالی سال 2020 میں نہرِ پاناما کو چھوٹے بڑے 13 ہزار 369 جہازوں اور کشتیوں نے عبور کیا جس میں سے 12 ہزار 245 وہ تجارتی جہاز تھے جو ایک سمندر سے دوسرے سمندر تک جا رہے تھے۔
اس پورے سال میں نہرِ پاناما کو ٹول ٹیکس کی مد میں 2.67 ارب ڈالر کی کمائی حاصل ہوئی۔
نہرِ پاناما کے ذریعے ہر طرح کے سامان کی آمد و رفت ہوتی ہے تاہم اجناس، کوئلہ، خوردنی تیل، کیمیکلز، زرعی پیداوار اور معدنیات سرِفہرست ہیں۔
امریکا دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک اور چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے، اس لیے یہ دونوں ممالک سامان کی ترسیل کے اعتبار سے سرِفہرست ہیں۔
مالی سال 2020 میں یہاں سے امریکا کے لیے جانے والا سامان اور امریکا سے دوسرے ممالک کو جانے والا سامان نہرِ پاناما سے ہونے والی سامان کی کُل ترسیل کا 68.8 فیصد تھا جبکہ اس کے مقابلے میں چین کا حصہ 15.6 فیصد رہا تھا۔
گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ، رہنما گرین لینڈ
گرین لینڈ کے نو منتخب لیڈر نے کہا ہے کہ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے۔ گرین لینڈ کے رہنما نے یہ بات نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں پیر کے روز کہی جو ٹرمپ نے گرین لینڈ پر گرفت اور ملکیت کے حوالے سے کہی تھی۔
خیال رہے گرین لینڈ کا جزیرہ پچھلے چھ سو سال سے ڈنمارک کے حصے کے طور پر ظاہر ہے۔
تاہم گرین لینڈ کے نومنتخب رہنما نے دو ڈوک انداز میں کہا ہے ' گرین لینڈ ہمارا ہے اور ہم بکاؤ مال نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی طویل جدوجہد آزادی کو ضائع نہیں کرنا ہے۔ ' جزیرے کے وزیراعظم میوٹ ایج نے اس امر کا اظہار اپنے ایک تحریری بیان میں کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے سویڈن کے لیے سابق نمائندے کین ہاورے کو کوپن ہیگن کے لیے سفیر نامزد کیا ہے۔ جبکہ گرین لینڈ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ ڈنمارک کا نیم خود مختار حصہ ہے اور امریکی فضائیہ کے ایک بڑے اڈے کا میزبان ہے۔
گرین لینڈ امریکا کے لئے اہم کیوں؟
واضح رہے گرین لینڈ میں امریکی فضائیہ کے اڈے کی وجہ سے امریکا کے لیے یہ جزیرہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس اڈے پر امریکی بیلسٹک میزائل اور پیشگی خبردار کرنے والے دفاعی نظام بھی موجود ہیں۔ اس جزیرے کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یورپ سے شمالی امریکا کے لیے یہ مختصر ترین روٹ ہے۔
اپنے پچھلے دور صدارت میں امریکا نے گرین لینڈ کا جزیرہ خریدنے کا رجحان ظاہر کیا تھا۔ لیکن یہ تجویز ڈنمارک کی طرف سے رد کر دی گئی تھی۔ گرین لینڈ کے حکام نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے ٹرمپ کی اس سوچ کو فضول قرار دیا تھا۔ جبکہ 56000 کی آبادی کے گرین لینڈ نے ڈنمارک سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف رہا ہے۔
کینیڈین عوام امریکا کی51ویں ریاست بننا چاہتے ہیں، ڈونلڈٹرمپ
اس سے قبل نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "بہت سے کینیڈین چاہتے ہیں کہ کینیڈا 51 ویں ریاست بن جائے،"
انہوں نے مزید لکھا کہ "وہ ٹیکسوں اور فوجی تحفظ پر بڑے پیمانے پر بچت کریں گے۔ میرے خیال میں یہ ایک بہت اچھا خیال ہے۔ 51 ویں ریاست!!!"
یاد رہے کہ یہ پوسٹ پہلی بار نہیں ہے جب ٹرمپ نے عوامی طور پر اس خیال پر غور کیا ہے۔ تاہم کچھ لوگ اسے مضحکہ خیز سمجھتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب کینیڈا کے نائب وزیر اعظم نے صدمے سے استعفیٰ دیا ہو۔
اس ہفتے لیگر کے رائے عامہ کے سروے میں پتا چلا ہے کہ 13 فیصد کینیڈین اپنے جنوبی پڑوسی کے ساتھ تعلق کے تصور کی حمایت کرتے ہیں۔
اس سے قبل جب ٹرمپ نے نومبر کے آخر میں فلوریڈا میں ایک عشائیے میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ یہی تبصرہ کیا تو مبینہ طور پر قہقہے گونج اٹھے۔
فاکس نیوز کے مطابق، ٹرمپ نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کو ضم کرنے سے نہ صرف فینٹینائل کی اسمگلنگ کے بارے میں ان کے خدشات دور ہوں گے، جس پر انہوں نے کینیڈا کے سامان پر 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی دی ہے بلکہ غیر قانونی امیگریشن کو بھی روکا جا سکتا ہے۔
ان کی تجویز نے اوٹاوا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور کچھ نے کہا کہ یہ آنے والے امریکی رہنما کی طرف سے " مضحکہ خیز نہیں،" ذلت آمیز اور ایک غیر معمولی خطرہ تھا۔
اس کے بعد سے، ٹرمپ نے بار بار سوشل میڈیا پوسٹوں میں ٹروڈو کو کینیڈا کے گورنر کے طور پر حوالہ دیا ہے- یہ لقب 50 امریکی ریاستوں کے رہنما استعمال کرتے ہیں۔